Tuesday, 26 September, 2006, 02:57 GMT 07:57 PST
عراق میں برطانوی افواج نے جنوبی شہر بصرہ میں ایک گھر پر حملے کر کے القاعدہ کے ایک سینئر عہدیدار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
برطانوی فوجی حکام نے ہلاک کیئے جانے والے عراقی کا نام عمر الفاروق بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا میں اسامہ بن لادن کے ایک انتہائی قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
فاروق کو 2002 میں انڈونیشیا سے گرفتار کر کے افغانستان میں امریکی فوج کی ایک جیل میں رکھا گیا تھا جہاں سے وہ گزشتہ سال فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ فاروق بصرہ میں چھپے ہوئے تھے لیکن اس علاقے میں القاعدہ کی سرگرمیاں دکھائی نہیں دیں۔
ان حکام کا کہنا ہے کہ دو سو فوجیوں نے اس گھر کو محاصرے میں لیا تھا جہاں سے ان پر فائرنگ کی گئی تھی۔
اس گھیراؤ کے بعد بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں فاروق ہلاک ہو گئے۔ اس آپریشن کی نگرانی کرنے والے افسر کا کہنا ہے کہ بظاہر اس گھر میں فاروق کے علاوہ کوئی نہیں تھا اور نہ ہی اس کارروائی میں ان کے سوا کوئی اور ہلاکت ہوئی۔
بگرام سے فرار |
بتایا جاتا ہے کہ فاروق کے والدین عراقی تھے اور ان کی پیدائش کویت میں ہوئی تھی۔ انہوں نے 1990 میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان میں تربیت حاصل کی۔
ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ جب انہیں انڈونیشیا سے گرفتار کیا گیا تو وہ امریکی سفارت خانوں پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کرنے والے تھے۔
بی بی سی کے جم میور کے مطابق افغانستان میں انہیں بگرام کے ہوائی اڈے میں بنائی گئی ایک جیل میں قید رکھا گیا تھا جہاں سے ان کے ساتھ القاعدہ کے تین اور افراد بھی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔