http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 26 September, 2006, 02:11 GMT 07:11 PST

حریری کو خود کش بمبار نے ہلاک کیا

لبنانی وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کی نئی تحقیقات رپورٹ سے ایسے شہادتیں سامنے آئی ہیں جن سے اس امکان کا اظہار ہوتا ہے کہ کے انہیں خود کش حملے سے ہلاک کیا گیا تھا۔

نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیشکار یہ سمجھتے ہیں کہ فروری 2005 میں جو ایک زخمی ہلاک ہوا تھا اسی نے وہ دھماکہ کیا تھا جس میں رفیق حریری ہلاک ہوئے۔

پیر کے روز سرگئی برامّرٹز نے اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو باقاعدہ پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے ذریعے کچھ نئے انکشافات سامنے آئے ہیں لیکن ان کی تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔

کہا گیا ہے کہ دھماکہ 1800 کلو گرام بارود سے یا تو ٹرک کے سامنے کیا گیا یا ٹرک کے اندر ہی کیا گیا۔

تفتیش کاروں کو جائے دھماکہ سے ایک دانت ملا ہے جس پر خول چڑھا ہوا ہے جو مخصوص قسم کا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکے کرنے والا لبنان کا نہیں تھا۔

اس کے علاوہ ایسے بتیس ٹکڑے جمع کیئے گئے ہیں جو دھماکہ کرنے والے ہی کے جسم کے ہیں اور جن سے اس کی عمر کا اندازہ 20 سے25 سال لگایا ہے۔

اس رپورٹ میں تحقیقات کے دوران شام کے تعون کو اطمینان بخش قرار دیا گیا ہے۔
رفیق الحریری فروری 2001 میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوئے اور اس دھماکے میں ان کے علاوہ دیگر تیئیس افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اس بم دھماکے کی تحقیقات لبنانی حکام نے کی تھیں جس پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا اور واقعے کی تحقیقات کے لیئے ایک آزادانہ بین الاقوامی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دھماکہ
دھماکے کے بعد جائے وقوعہ راکھ اور جلی ہوئی اشیاء کے ایک ڈھیر کے سوا کقھ دکھائی نہیں دیتا تھا

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں اس سلسلے میں لبنان کی طرف سے کی گئی تفتیش کو ناقص اور نا مکمل قرار دیا تھا۔

جس کے بعد اقوام متحدہ نے تحقیقات کرائیں جس کی رپورٹ آئر لینڈ کے نائب پولیس کمشنر، پیٹر فٹسجیرالڈ نے ترتیب دی۔ اس رپورٹ میں رفیق حریری کی ہلاکت کے محرکات کی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی گئی تھی لیکن رپورٹ میں لبنان کی سکیورٹی فوجوں اور شام کی ملٹری انٹیلی جینس کو نامناسب حفاظتی اتنظامات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیاتھا۔

تفتیشکاروں کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کی تفتیش سے اس رائے کی تصدیق ہوتی ہے کہ لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل میں شامی انٹیلیجنس کے اہلکار اور ان کے لبنانی ہم منصب ملوث تھے۔

اقوام متحدہ میں شام کے سفیر نے تفتیش کاروں کے سربراہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے تعاون کی ہر ممکن کوشش کی ہے تاہم انہوں تفتیش کاروں کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے اپنے نتائج کو تفتیش مکمل ہونے تک راز نہیں رکھا۔

اس کے بعد تحقیقات کے لیے بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے پراسیکیوٹر سرگئی برامّرٹز کو نامزد کیا تھا جنہوں نے نئی رپورٹ مرتب کی ہے۔