http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 25 September, 2006, 03:46 GMT 08:46 PST

اسامہ بن لادن: انتقال کا کوئی ثبوت نہیں

سعودی حکومت نے اپنی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے فرانس میں شائع ہونے والی اس خبر کی تردید کی ہے کہ اسامہ بن لادن انتقال کر گئے۔

زندہ ہاتھ نہ آؤں گا: اسامہ بن لادن
اسامہ کی خبر مصدقہ نہیں

فرانس کے ایک اخبار نے یہ خبر شائع کی تھی کہ سعودی خفیہ ایجنسیاں یہ سمجھتی ہیں کہ اسامہ بن لادن کا گزشتہ مہینے پاکستان میں ٹائیفائیڈ کے باعث انتقال ہو چکا ہے۔

سعودی حکومت نے اس سلسلے میں جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے اسامہ بن لادن کے انتقال کی تصدیق ہوتی ہو۔

فرانسیسی اخبار نے اپنی خبر کا ذریعہ فرانس کی خفیہ ایجنسیوں کے ایک ممیو بتایا تھا جس میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کی خفیہ ایجنسیاں یہ سمجھتی ہیں کہ اسامہ بن لادن کا ٹائیفائیڈ کی بیماری میں انتقال ہو چکا ہے۔

فرانس کے صدر ژاک شیراک نے خفیہ ایجنسیوں کے میمو کے افشا ہونے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے مرنے کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں۔

سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بارے میں اطلاعات قیاس آرائیوں پر مبنی محسوس ہوتی ہیں اور ان کی کسی بھی آزاد ذریعے تصدیق نہیں ہو سکی۔

فرانسیسی اخبار نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کا انتقال اگست کے اواخر میں ہوا ہے۔

پاکستان میں حکام نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ان کی پاکستان حدود میں پناہ گاہ کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا ہے۔

فرانسیسی اخبار کے مطابق سعودی عرب کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبر چار ستمبر کو ملی تھی لیکن اس نے اس کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے اعلان نہیں کیا ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمود علی درانی نے بی بی سی نیوز 24 سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس دعوے پر شکوک محسوس ہوتے ہیں۔