Sunday, 24 September, 2006, 07:54 GMT 12:54 PST
امریکی روز نامے نیویارک ٹائمز نے ’عراق جنگ کے اثرات‘ کے بارے میں امریکی انٹیلیجنس کے ایک خفیہ دستاویز پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔
اس دستاویز میں اخذ کیا گیا ہےکہ عراق تنازع سے دنیا بھر میں دہشتگردی کے خطرات اور اسلامی بنیاد پرستی کو ہوا ملی ہے۔
نیو یارک ٹائمز نے خود رپورٹ نہیں دیکھی ہے تاہم ان لوگوں سے بات کی ہے جو اس رپورٹ سے واقف ہیں۔
نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈرے ورنوک کا کہنا ہے کہ ’نیشنل انٹیلیجنس ایسٹی میٹ‘ نامی یہ دستاویز اس لیئے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں 16 سے زائد امریکی جاسوسی اداروں کے نکتہ نظر موجود ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ’عراق جنگ سے نے صرف دہشتگردی کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے بلکہ یہ جہادی نظریہ پھیلانے میں بھی پیش پیش ہے‘۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ تنظیم ایک عالمی ’نیٹ ورک‘ میں تبدیل ہوگئی ہے اور اس کے نیم خودمختار ’سیل‘ یا دفاتر ہیں۔
عراق جنگ کے بعد عالمی دہشتگردی کے بارے میں یہ پہلی تجزیاتی رپورٹ ہے۔ نیویارک ٹائمز نے ان اہلکاروں سے بات کی ہے جنہوں نے یا تو یہ رپورٹ دیکھی ہے یا پھر اس کی تیاری میں شامل رہے ہیں۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان افراد کا خیال ہے کہ صدر بش کا یہ دعوٰی غلط ہے کہ عراق جنگ نے اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود دنیا کو پہلے سے زیادہ محفوظ بنادیا ہے۔