Saturday, 23 September, 2006, 14:48 GMT 19:48 PST
امریکی ماہر سیلگ ہیریسن نے کہا ہے کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کے لیئے نکالے جانے والے پلوٹونیم کی مقدار کو بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
سیلگ ہیریسن کے مطابق کورین افسروں نے انھیں بتایا ہے کہ حالیہ سال کے آخر تک ژونگ بیون ری ایکٹر سے جوہری ایندھن حاصل کریں گے۔
ہیریسن نے یہ بھی کہا کہ پیانگ یانگ کی خواہش ہے کہ وہ امریکہ سے دو طرفہ بات چیت کے لیئے ژونگ بیون کو ذریعے کے طور پر استعمال کرے۔ جبکہ امریکہ کا اصرار ہے کہ جوہری معاملے پرمذاکرات صرف امریکہ، چین، روس، جاپان اور جنوبی کوریا کی موجودگی میں ہی ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ سال پیانگ یانگ کے حکام احتجاج کے طور پر ان چھ ممالک کے ارکان کی میٹنگ سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔ پیانگ یانگ بات چیت پر اس لیئےراضی ہو گئے تھے کہ انھیں جوہری پروگرام ختم کرنے کے عوض امداد اور سکیورٹی کی ضمانت کی پیش کش کی گئی تھی۔
شمالی کوریا کے حالیہ میزائل کے تجربات نے ساری دنیا کو چونکا دیا تھا اور اس سے یہ سمجھا جانے لگا کہ یہ تجربات نیوکلیئر بم کی تیاری کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔
سلیگ ہیریسن نے بیجنگ میں رپورٹرز کو بتایا کہ شمالی کوریا کےحالیہ دورے کے دوران ان کی ملاقات جوہری پروگرام کے اعلیٰٰ جوہری مذاکرات کار کم کے گوان سمیت بہت سے افسران سے ہوئی ہے۔
سلیگ ہیریسن کا شمار ان چند امریکی ماہرین میں ہوتا ہے جن کا شمالی کوریا کی حکومت سے قریبی رابطہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کم کے مطابق اس ایندھن کو حاصل کرنے کا مقصد جوہری ہتھیار بنانے کے لیئے پلوٹونیم کی افزائش ہے۔
ہیریسن کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے یہ قدم اس لیئے اٹھایا ہے کہ وہ امریکہ سے دو طرفہ بات چیت کی شرط منوا سکے۔
امریکہ کا ماننا ہے کہ پیانگ یانگ ہر سال دو یا اس سے زیادہ بم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی زیرزمین سرگرمیاں مشکوک ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہاں جوہری تجربے کی تیاری ہو رہی ہو۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی نے ہیریسن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ شمالی کوریا کی قیادت جوہری تجربہ کرنے کے بارے میں ابھی تک بحث مباحثہ کر رہی ہے۔