http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 21 September, 2006, 08:55 GMT 13:55 PST

خاتون بمبار کو سزائے موت

اردن کی ایک عدالت نے ایک خاتون خودکش بمبار سمیت سات افراد کو عمان کے ہوٹلوں میں ہونے والی بمباری میں ان کے کردار کے لیے سزائے موت سنائی ہے۔

ساجدہ الریشاوی ایک عراقی خاتون ہیں جو بم دھماکے کی کوشش میں ناکام ہوگئی تھیں۔ گزشتہ سال عمان کے ہوٹلوں میں ہونے والی اس بمباری میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عدالت نے دیگر جن چھ افراد کو سزائے موت سنائی ان کی سماعت ان کی غیرحاضری میں کی گئی تھی۔

پولیس نے ساجدہ الریشاوی کا وڈیو بیان بنایا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال نو نومبر کو کیے جانے والے حملے کے دوران ان کے کمر سے بندھی ہوئی بارود کی پٹی وقت پر پھٹ نہ سکی جس کی وجہ سے وہ بچ گئیں۔

نومبر کے ان حملوں کی ذمہ داری ’عراق میں القاعدہ‘ کے رہنما ابومصعب الزرقاوی نے قبول کی تھی جو اس سال امریکی فوج کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔

عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے وقت کہا کہ ساجدہ الریشاوی اور دیگر چھ افراد کو حملوں کے لیے ’بغیر کسی شک‘ کے ذمہ دار پایا گیا ہے۔

سماعت کے دوران ساجدہ الریشاوی کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ خود کو اڑانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھیں اور انہوں نے بارود کی اپنی پٹی کھولنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

ایک فورینزِک ماہر نے عدالت سے کہا تھا کہ بارود کی بیلٹ اس لیے نہیں پھٹ سکی کیوں کہ وہ تکنیکی طور پر جام ہوگئی تھی۔