Wednesday, 20 September, 2006, 11:09 GMT 16:09 PST
عراق کے سابق سربراہ صدام حسین پر عراقیوں کے قتل عام کے الزام پر چلائے جانے والے مقدمے کے دوران جج نے انہیں عدالت سے باہر نکل جانے کا حکم دیا۔
صدام حسین نے امر محمد العريبي، کو جج نامذد کئیے جانے پر احتجاجاً عدالت میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا جس پر جج نے انہیں عدالت سے باہر نکال دینے کا حکم دیا۔
معزول عراقی صدر کو عدالت سے باہر نکال دینے پر ان کے تمام وکلاء بھی عدالت سے باہر چلے گئے اور عدالتی کارروائی ان کی عدم موجودگی میں جاری رہی۔
عراقی کابینہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت کا خیال ہے کہ جج غیر جانبدار نہیں رہے جس طرح کہ ان کی اس سوچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدام حسین فوجی آمر نہیں تھے۔
کچھ مبصرین نے جج کو تبدیل کیئے جانے پر حکومت پر تنقید کی ہے اور اسے حکومت کی طرف سے مقدمے میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدام حسین کے ساتھ کو منصفانہ سماعت کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے قانونی ماہر نیہال بوتھا نے کہا ہے کہ جج کی تبدیلی عدلیہ کی آزادی کی ایک کھلی خلاف ورزی ہے۔
صدام حسین کے وکلاء کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ عدالت کی کارروائی میں اس وقت تک شامل نہیں ہوں گے جب تک حکومت کی طرف سے مقدمے میں مداخلت ختم نہیں ہو جاتی۔