Tuesday, 19 September, 2006, 17:16 GMT 22:16 PST
امریکی صدر جارج بش نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنی متنازعہ پالیسیوں کا دفاع کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت جڑ پکڑ رہی ہے اور علاقے میں دہشت گرد کمزور ہورہے ہیں۔
جارج بش نے ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کا معاملہ بھی جنرل اسمبلی کے سامنے اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کے ایک ’سفارتی حل‘ کے لیے کام کریں گے لیکن ’ایران کو اپنے ایٹمی عزائم ترک کرنے ہوں گے۔‘
جارج بش نے مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیوں کا ایسے وقت پر دفاع کیا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے وارننگ دی ہے کہ عراق میں ’خانہ جنگی‘ کے خدشات ہیں۔
اتفاق نہ ہوسکا |
عنان نے اجلاس کے مندوبین سے کہا کہ دارفور میں جاری رہنے والا تشدد وہاں کے باشندوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ’ہمارے وعدے کا مذاق‘ اڑا رہا ہے۔
امریکی صدر نے بھی اپنے خطاب میں دارفور کے مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے ’فوری کارروائی‘ کا مطالبہ کیا اور وہاں ہونے والی زیادتیوں کو ’قتل عام‘ قرار دیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ دارفور کا مسئلہ اس اجلاس پر ایک سیاہ سایے کی طرح چھایا ہوا ہے اور اقوام متحدہ کے موثر ہونے کے بارے میں سوالات اٹھارہا ہے۔
![]() | |
| دارفور کی صورتحال ’ہمارے وعدے کا مذاق‘ ہے: عنان |
صدر بش نے ایران کے بارے میں اپنی تقریر میں کہا ’ایران کو اپنے جوہری ارادے ترک کرنا ہوں گے اور ہم اس مسئلے کے سفارتی حل کے لیئے کام کریں گے‘۔
امریکی اور یورپی کوششوں کے باوجود سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں اتفاق نہیں ہوسکا۔
ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے سے متعل اقوام متحدہ کے مطالبات کو رد کردیا ہے۔
روس اور چین پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں اتنے واضح نہیں ہیں جبکہ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے پیر کو کہا تھا کہ ان کے خیال میں یورانیم کی افزودگی کی معطلی ہی ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی شرط نہیں بنائی جانی چاہیئے۔
رادفور تنازع |
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اور شہری مقاصد کے لیئے ہے۔
کوفی عنان کا جنرل اسمبلی سے خطاب بطور اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل آخری خطاب تھا۔ اس سال کے اختتام پر اس عہدے پر ان کا دوسرا پانچ سالہ دور ختم ہوجائے گا۔
کوفی عنان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کے دور میں کئی ممالک سے غربت ختم ہوئی ہے لیکن کئی ابھی بھی بہت پیچھے ہیں۔