Monday, 18 September, 2006, 14:43 GMT 19:43 PST
برطانوی اخبار گارڈین میں ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ پوپ بینیڈکٹ ایک ایسے وقت اپنے پیشرو پوپ جان پال کے بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے والے ان اقدامات سے خود کو علیحدہ کر رہے ہیں جس وقت ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اخبار کے مطابق پوپ کا متنازعہ بیان ڈنمارک میں شائع ہونے والے کارٹونوں سے پیدا شدہ بحران کے بعد آیا ہے اور وقت کی نزاکت کے تناظر میں پوپ کے الفاظ انتہائی خطرناک ہیں۔
مضمون نگار کیرن آرمسٹرونگ نے جو اسلامی تاریخ پر ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں، لکھا ہے کہ پوپ کا بیان اتنا خطرناک ہے کہ اس سے اور زیادہ مسلمانوں کو یقین ہو جائے گا کہ مغرب اسلاموفوبیا کا اس حد تک شکار ہو چکا ہے کہ اس کا کوئی تدارک نہیں ہو سکتا۔
مصنفہ کے نزدیک ان خود کش حملہ آوروں نے اسلام کے بنیادی اور ضروری اصولوں کی خلاف ورزی کی لیکن مغرب انہیں مسلمانوں کا نمائندہ سمجھتا ہے حالانکہ وہ خود کش حملہ آور اسلامی نقطۂ نظر سے منحرف تھے۔
مضمون نگار کے مطابق قرون وسطیٰ سے مسلمانوں کے بارے میں باہر کی دنیا کا خیال، مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے پس منظر میں سر اٹھا لیتا ہے۔
مصنفہ کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی تک اسلام میں عیسائیت کی نسبت امن اور برداشت زیادہ تھی۔ مغربی خیال کے برعکس مسلمان کسی پر تلوار کی طاقت سے اپنا دین مسلط نہیں کرتے تھے۔ پیغمبرِ اسلام کی رحلت کے بعد فارس اور بازنطین کی فتوحات کا پس منظر مذہبی مصالح کی بجائے سیاسی تقاضوں پر مبنی تھا۔
منصفہ لکھتی ہیں کہ اس سب کے باوجود اسلام کے اس تصور کو ختم کرنا تقریباً ناممکن لگتا ہے کہ وہ ایک متشدّد دین ہےاور فتنہ بن کر انتہائی ناموزوں اوقات پر سر اٹھاتا ہے۔
’اپنی پرانی عادت سے مجبور ہم اس تصور کو اجاگر کر کے دراصل اسے مضبوط بنا رہے ہیں۔ عراق، فلسطین اور لبنان میں جو تشدد ہو رہا ہے اس میں ہم بھی ذمہ دار ہیں، اور شاید یہی سبب ہے کہ ہم ساری کی ساری ذمہ داری اسلام پر ڈال رہے ہیں۔ لیکن خیال رہے اگر ہم اپنے تعصبات کی پرورش یونہی کرتے رہے تو خطرہ بھی ہم ہی مول لے رہے ہوں گے۔