Thursday, 14 September, 2006, 06:57 GMT 11:57 PST
حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنشینل نے الزام لگایا ہے کہ حزب اللہ نے لبنان پر اسرائیلی حملے کے دوران بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ چونتیس دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں حزب اللہ نے دانستہ طور پر راکٹوں سے اسرائیل کے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جو کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنشینل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیل کولبنان میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے پر جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔
تنظیم نے اقوام متحدہ کی جانب سے دونوں اطراف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف وزیوں کی تحقیقات کرانے کی درخواست کی ہے۔
تنظیم کی اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ نے جان بوجھ کر اسرائیل کے شہریوں اور شہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنایا اور بغیر کسی امتیاز کے اندھا دھند راکٹ پھینکے اور ا س کے یہ دونوں اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی حصے میں کوئی چار ہزار کے قریب راکٹ پھینکے جن سے 43 شہری ہلاک ہوئے اور یہی نہیں بلکہ اس صورت حال کی وجہ سے ہزاروں افراد کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ شہریوں کو ہلاک کرنا اس کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے تاہم اس کے سربراہ حسن نصر اللہ کے بقول اسرائیلی حلموں کے نتیجے میں لبنانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد ان کی اس پالیسی میں تبدیلی آگئی۔
![]() | |
| حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا ان کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے |
ایمنسٹی انٹرنشینل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کو وجہ بنا کر حزب اللہ کے اس عمل کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
تنظیم کے سیکرٹری جنرل ارینے خان کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کو شہریوں کی جان کے بدلے اس غیر قانونی عمل کی کسی طور اجازت نہیں تھی۔
تنظیم اس بارے میں چھان بین کے لیئے اقوام متحدہ سے ایک بھرپور، آزاد اور غیر جانب دار تحقیقاتی انکوائری اور لڑائی میں نشانہ بننے والوں کے لیئے معاوضے کا مطالبہ بھی تواتر سے کر رہی ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ اس لڑائی کے ذمہ دار اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔
ایمنسٹی کی تئیس اگست کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے اپنی اہم جنگی حکمت عملی کے دوران گھروں، پلوں، سڑکوں، پانی اور ایندھن کے پلانٹس کو نشانہ بنایا۔
لبنان اسرائیل لڑائی میں تقریبًا ایک ہزار لبنانی شہری اور 161 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔