Thursday, 14 September, 2006, 10:47 GMT 15:47 PST
افغانستان نے پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے طالبان سے متعلق ایک بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ دنوں یورپی پارلیمان سے خطاب کے دوران صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ افغانستان میں امن اور سلامتی کے لیئے فی الوقت طالبان القاعدہ سے زیادہ خطرناک ہے۔
دوسری طرف پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے صدر مشرف کے الفاظ کو غلط انداز سے پیش کیا گیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے مطابق صدر مشرف نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے حالیہ امن معاہدے کا دکر کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کسی بھی جگہ پختونوں کو طالبان کا حصہ نہیں کہا۔
اس سے پہلے افغانستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پختون کو طالبان کا حصہ سمجھنا پختونوں کے لیئے ہتک آمیز بات ہے کیونکہ انہوں نے افغانستان میں امن و امان کی بحالی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان صدر پرویز مشرف کے اس بیان پر افسوس کا اظہار کرتا ہے جس میں انہوں نے ایک قاتل گروہ کو سرحد کے دونوں طرف رہنے والی ایک قوم سے منسوب کیا ہے۔
پرویز مشرف نے کہا تھا کہ القاعدہ کے برعکس طالبان کو زیادہ عوامی حمایت حاصل ہے جو قومی سطح پر ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ طالبان کوافغانستان کے عوام میں کافی حمایت حاصل ہے جس کی قیادت ملا عمر کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملا عمر نے کبھی پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ مشرف نے زور دے کر کہا کہ طالبان کو ختم کرنے کا واحد راستہ طاقت کا استعمال ہی ہے۔