Wednesday, 13 September, 2006, 06:01 GMT 11:01 PST
ترکی کے شہر دیار بکر میں بم کا زور دار دھماکہ ہوا ہے جس میں سات افراد ہلاک اور کم از کم سترہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ہلاک شدگان میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ جنوب مشرقی ترکی کے اس شہر میں کردوں کی اکثریت ہے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ بم کا دھماکہ ایک مصروف پارک کے نزدیک ایک بس سٹاپ پر ہوا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ بم موبائل فون کے ٹائمر کے ذریعے چلایا گیا۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام کے نو بجے ہوا۔
اس دھماکے سے قبل ترکی بھر میں کرد علیحدگی پسند گروپ پی کے کے‘ سے منسلک پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ دھماکہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایک امریکی مندوب ملک میں تشدد آمیزی اور بم دھماکوں کے واقعات میں کمی پر مذاکرات کے لیئے ترکی پہنچے ہیں۔
ایک کرد علیحدگی پسند گروپ ’کردش فریڈم فالکنز‘ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس گروپ نے پچھلے ہفتے اپنی ویب سائیٹ پر دھمکی دی تھی کہ وہ ’ترکی کو جہنم بنادیں گے‘۔
ترکی کے سیاحتی مقامات پر حالیہ بم دھماکوں میں 12 افرادہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔
ملک کے جنوب مشرقی حصے میں ترک فوج اور کرد علیحدگی پسندوں کے درمیان جھرپوں کا سلسلہ گزشتہ بیس برس سے زائد عرصے سے جاری ہے۔
پیر کو ترکی کی بڑی کرد سیاسی جماعت نے پی کے کے پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات اور امن کی راہ ہموار کرنے کے لیئے یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کردے۔