Wednesday, 13 September, 2006, 23:50 GMT 04:50 PST
صدام حسین کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں استغاثہ کے سربراہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کرنے والے جج عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ وہ صدام حسین کے حق میں ہیں۔
استغاثہ کے سربراہ منقط الفارون کے مطابق مدعا علیہان کو رعایت دی گئی ہے کہ وہ عدالت میں گواہوں کو دھمکیاں دیں اور سیاسی تقاریر کریں۔
تاہم جج عبداللہ العمیری نے یہ درخواست مسترد کر دی ہےاور کہا ہے کہ ان کا طریقِ کار منصفانہ ہے اور ان کا تجربہ پچیس سال پر محیط ہے۔
صدام حسین اور چھ دوسرے افراد پر کردوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چل رہا ہے۔
مقدمے کی تازہ ترین کارروائی کے دوران کے دوران الفارون نے کہا کہ جج کو چاہیے کہ وہ کسی فریق کو رعایت نہ دے تاکہ کوئی اس کا ناجائز فاعدہ نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہ اپنے خیالات کے اظہار میں مدعا علیہان حد سے گزر چکے ہیں اور وہ گواہوں کو کھلم کھلا دھمکیاں دیتے ہیں۔
منگل کو سماعت کے دوران سابق عراقی رہنما نے دھمکی دی تھی کہ وہ ایک گواہ کے وکیل کا ’سر کچل دیں گے۔‘
تین دنوں کی سماعت کے دوران گواہوں نے عراقی فوج کے ہاتھوں کردوں کو قید کیئے جانے اور ان پر بمباری کی تفاصیل بیان کی ہیں۔
ایک گواہ مجید احمد نے بتایا کہ ان کے گاؤں پر بیس روز تک بمباری ہوتی رہی اور وہاں کے رہنے والے ایران بھاگ جانے پر مجبور ہوگئے۔
جب گاؤں کے لوگ واپس آئے تو انہوں نے خود کو عراقی فوج کے حوالے کر دیا جنہوں نے ان افراد کو جیلوں میں ڈال دیا اور’ تب سے آج تک ہم نے ان کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔‘
ایک اور گواہ عمر عثمان نے بتایا کہ فوجی جہازوں سے ان پر کیماوی ہتھیار پھینکے گئے جس کے بعد ان پر میزائل داغے گئے۔ ان میں سے کچھ ان کے گھر کے قریب گرے۔’میں سے سر کے بغیر لاشیں دیکھیں اور انسانی جسم کے حصے دیکھے جیسے بازو اور ٹانگیں۔‘
ان گواہیوں کے دوران صدام حسین کافی غصے میں دکھائی دے رہے تھے اور انہوں نے ایک گواہ کے وکیل کو ایرانیوں اور صیہونیوں کا ایجنٹ قرار دیا اور کہا ’ہم اس کا سر کچل دیں گے۔‘