Wednesday, 13 September, 2006, 06:32 GMT 11:32 PST
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقے سے اپنی فوج کے انخلاء میں خاصی پیش رفت دکھائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اور اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی کے مطالبے کو بہت حد تک پورا کردیا ہے۔
کوفی عنان کا کہنا تھا کہ اور اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی تعمیل کی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ چونتیس روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پھر سے عدم استحکام آ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے معاہدے کی پاسداری میں استقامت کا مظاہرہ کیا ہے تاہم انہوں نے انیس اگست کو مشرقی لبنان کے علاقے پر اسرائیلی حملے کو معاہدے کی سخت خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی طویل المعیاد معاہدے کو اس تنازعے کے مخفی وجوہات کا سد باب کرنا چاہیے اور انہوں نے اشارہ دیا کہ اس ہفتے کے آخر تک جنوبی لبنان میں امن فوج کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ جائے گی۔
کوفی عنان نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ لبنانی فضائی حدود میں اپنی پروازیں بند کردے۔ انہوں نے جنوبی لبنان میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کے بارے میں بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے تجویز دی کہ لبنانی حدود میں حکومتی بالادستی دوبارہ قائم کرنے کے لیئے حزب اللہ کو سیاسی طریقے سے غیر مسلح کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے قبضے سے اسرائیلی فوجیوں کی غیر مشروط رہائی اور اسرائیل کی قید میں موجود حزب اللہ کےکارکنوں کا معاملہ دونوں انتہائی اہم ہیں۔
منگل کو حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ اگر 27 سال سے اسرائیلی قید میں موجود ان کے کارکنوں کو رہا کردیا جاتا ہے تو حزب اللہ کے قبضے سے بھی اسرائیلی فوجی رہا کردیئے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی کسی بھی ڈیل میں عمر قنطار کی رہائی کا معاملہ بھی شامل ہے جنہیں 1979 میں اسرائیلی فوج نے کئی افراد کی ہلاکت کے جرم میں ایک حملے کے بعد حراست میں لیا تھا۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کوفی عنان نے پیش رفت کے حوالے سے جو بات کی ہے اس سے ایک ملی جلی سی تصویر سامنے آتی ہے۔