اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے اسرائیلی حراست میں لیے جانے والے حماس کے اراکین پارلیمان اور دیگر اہلکاروں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے درجنوں فلسطینی اراکین پارلیمان اور دیگر حکام کو حراست میں لے لیا تھا۔
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق اسرائیل کی فوجی عدالت نے حکم دیا ہے کہ حماس کے اٹھارہ اراکین کو ضمانت پر رہا کیا جائے اور سماعت جاری رہے۔ ان اٹھارہ افراد میں اراکین پارلیمان بھی شامل ہیں۔
لیکن عدالت نے کہا کہ یہ افراد آئندہ اڑتالیس گھنٹے جیل میں ہی رہیں گے تاکہ اسرائیلی فوج کے حکام کو عدالتی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کا موقع مل سکے۔
حماس اسرائیل میں ایک غیرقانونی تنظیم سمجھی جاتی ہے اور اسے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔
ایک مقدمے میں فوجی عدالت نے حماس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی پارلیمان کے سپیکر عبدالعزیز دویک پر ’شدت پسند تنظیم کا رکن‘ ہونے کے الزام میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔
فلسطینی حکام کہتے رہے ہیں کہ حماس کے سیاست دانوں کو اسرائیلی حراست میں لینا غیرقانونی ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل انہیں حراست میں اس لیے رکھے ہوئے ہے تاکہ ایک فلسطینی شدت پسند تنظیم کے قبضے میں موجود اسرائیلی فوجی کی رہائی کراسکے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل سے ان افراد کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو حماس اور الفتح کی ’متحدہ قومی حکومت‘ بننے سے قبل رہا کیا جائے۔