Monday, 11 September, 2006, 10:23 GMT 15:23 PST
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور خلیج کی عرب ریاستیں اسلامی شدت پسندوں کا اگلا نشانہ ہوں گی۔
ایمن الظواہری کا تازہ ویڈیو عرب چینل الجزیرہ پر نشر کیا گیا ہے۔ ان کا بیان امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے پانچ سال مکمل ہونے پر سامنے آیا ہے۔
ایمن الظواہری کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کو اب اپنی فوجی طاقت عراق اور افغانستان کے دفاع کی بجائے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے دفاع میں لگانی چاہیئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں ایمن الظواہری نے اپنے سابقہ ویڈیو پیغامات کی طرح خود کو محاذ جنگ پر موجود کسی جنگجو کی بجائے ایک دانش ور کے طور پر پیش کیا ہے۔
ایمن الظواہری نے مصر پر الزام عائد کیا کہ اس نے دوسری عرب ریاستوں کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کو اس خطے پر حکمرانی کی اجازت دے دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل لبنان اور غزہ پر قبضے کے لیئے تیار ہو چکا ہے کیونکہ مصر نےاسرائیل کے ساتھ جاری محاذ آرائی مکمل طور پر ترک کر دی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی چھٹی شق میں مصر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرنے والی کسی عرب ریاست کی مدد نہیں کرے گا۔ چنانچہ سرکاری طور پر وہ (مصر) مشترکہ عرب دفاعی معاہدے سے دستبردار ہو گیا ہے، وہ معاہدہ جو بہت پہلے ہی دفن کیا جا چکا ہے‘۔