http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 11 September, 2006, 23:28 GMT 04:28 PST

کوکا کولا دس سال بعد پھر کابل میں

دس برس قبل افغانستان میں گولہ باری نے کوکا کولا کا پلانٹ نیست و نابود کر کے رکھ دیا تھا۔ لیکن ایک بار پھر مشروب بنانے والی یہ کمپنی افغانستان پہنچ گئی ہے اور کابل میں نئی امیدوں کے ساتھ کام شروع کر رہی ہے۔

کوکا کولا کی بوتلیں بنانے والا پلانٹ کابل کے بگرامی صنعتی علاقے میں لگایا گیا ہے اور اس کی تیاری میں پچیس ملین امریکی ڈالر لاگت آئی ہے۔ اس پلانٹ کی وجہ سے جو ساٹھ ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے، تین سو پچاس افراد کو روزگار ملے گا۔

اتوار کو اس پلانٹ کا افتتاح ہوا اور اس موقع پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ کوکا کولا کی جانب سے یہاں سرمایہ کاری افغانستان کی معاشی ترقی، خود کفالت اور بہتر مستقبل کی جانب ایک قدم ہے۔

لیکن کابل کے بہت سے رہنے والے افغان صدر کی باتوں سے متفق نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی نے مقامی شخص جمعہ گل سے بات کی جن کے والد کوکا کولا کی اس فیکٹری میں کام کرتے تھے جس پر بمباری ہوئی تھی۔وہ کہتے ہیں ’افغانستان کو مشروبات کی نہیں سرمایہ کاری کی، ہسپتالوں کی اور تشدد کے خاتمے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا ہے: ’ہمارے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، بجلی نہیں ہے اور نکاس کا نظام نہیں ہے۔ پچیس ملین ڈالر لگانے ہی تھے تو بہتر ہوتا کہ ہسپتالوں اور سکیورٹی پر لگائے جاتے نہ کہ مشروب کی فیکٹری پر۔‘

جمعہ گل کی باتیں اپنی جگہ لیکن انتظامیہ اس پلانٹ کی وجہ سے کافی پر امید ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ اب دیگر غیر ملکی سرمایہ کار بھی افغانستان آئیں گے۔ بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پلانٹ طالبان شدت پسندوں کا نشانہ بن سکتا ہے جو امریکی حمایت یافتہ کرزئی حکومت سے لڑ رہے ہیں۔

فیکٹری کے مالک حبیب اللہ گلزار جو افغانستان کی ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں اور دبئی میں رہتے ہیں، اپنی فیکٹری کو لاحق خطرات سے آگاہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’سکیورٹی کا مسئلہ ہے لیکن مستقبل تابناک ہے۔میری پہلی ترجیح یہ ہے کہ لوگوں کوہنرمند کیسے بنایا جائے۔

یہ فیکٹری ابتدا میں کوکا کولا کے تین برانڈ یعنی کولا کولا، فانٹا اور سپرائٹ تیار کرے گی۔