Monday, 11 September, 2006, 08:00 GMT 13:00 PST
فلسطین میں حماس کی حکومت نے ملک میں ایک قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دیئے جانے کی برطانوی تجویز کو متعصب اور انصاف سے عاری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے، جو ان دنوں مشرق وسطی کے دورے پر ہیں، تجویز دی تھی کہ فلسطین میں قومی اتحاد پر مبنی حکومت کی تشکیل سے مغربی ممالک فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ جاری بائیکاٹ ختم کردیں گے۔ مغربی ممالک نے حماس کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد اسے دی جانے والی امداد بند کردی تھی اور اس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔
ٹونی بلیئر نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے رملہ اللہ میں ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ تجویز دی تھی۔
دریں اثناء لبنان میں سینئر شیعہ رہنما آیت اللہ محمد حسین فدا اللہ نے حکومت سے ٹونی بلیئر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ آیت اللہ محمد حسین نے بلیئر کو لبنان جنگ میں اسرائیل کی پشت پناہی کا ذمہ دار ٹھہرایا کیونکہ ان کے بقول بلیئر نے امریکی صدر جارج بش کا ساتھ دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔
لبنان کے دورے کے دوران وہ سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جس میں حکومت کو مستحکم بنانے اور شدت پسند تنظیم حزب اللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی پر بات کی جائے گی۔
ان کے اس دورے کے خلاف بیروت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ بہت سے لبنانی شہریوں نے جنگ بندی روکنے سے انکار اور اس کے نتیجے میں اسرائیلی بمباری سے ملک میں تباہی کے لیئے ٹونی بلیئر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔