http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 10 September, 2006, 13:31 GMT 18:31 PST

عباس اولمرٹ سے ملنے پر راضی

برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کے بعد فلسطینی رہنما محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ سے ’غیر مشروط ‘ مذاکرات کے لیئے رضامند ہیں۔

محمود عباس کا یہ جواب اسرائیلی وزیراعظم کے اس اعلان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے فلسطینی رہنما سے بغیر کسی شرط کے ملاقات کے لیئے کہا تھا۔

برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ اگر دونوں فریقین مذاکرات کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو اس سے دونوں فریقین کے لیئے قیام امن کے نئے مواقع سامنے آئیں گے۔ انہوں نےاعتراف کیا کہ پچھلے کچھ عرصے میں اس علاقے میں بحالئ امن کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

ٹونی بلیئر نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی برادری صرف حماس اور محمود عباس کی جماعت الفتح کے ’ قومی اتحاد‘ سے بنائے جانے والی فلسطینی حکومت سے معاہدے کے لیئے تیار ہو گی وہ بھی اگرایسی ممکنہ حکومت حماس کی اسرائیل مخالفت پالیسی سے ہاتھ کھینچ لیتی ہے۔

حماس نے جنوری کے انتخابات کے نتیجے میں فلسطینی پارلیمنٹ کا کنٹرول سنبھالا تھا لیکن حماس کو محمود عباس کی جماعت الفتح سے چیلنج کا سامنا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی حماس کی حکومت کو مدد دینی بند کر دی ہے۔

ٹونی بلیئر نے کہا کہ امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے قیام امن کے لیئے روڈ میپ تجویز کی تھی جس کے تحت بین الاقوامی برادری کو فلسطینیوں کی ایک ’قومی حکومت‘ سے تعاون کرنا آسان ہو گا۔

برطانوی وزیراعظم مشرق وسطیٰ کے اس دورے میں حماس کی قائم کردہ فلسطینی حکومت کے لوگوں سے ملاقات نہیں کریں گے۔ برطانوی حکومت کے نمائندے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے اس دورے کا مقصد ہی یہ تھا کہ دونوں اطراف کے دلائل سنے جائیں گے اور نتیجے میں یہ طے کیا جا سکے گا کہ ان دونوں میں مذاکرات کس طرح کروائے جا سکتے ہیں۔

فلسطینی صدر سے ملاقات کرنے سے پہلے ٹونی بلیئر ان اسرائیلی فوجیوں کے خاندانوں سے ملے جنہیں غزہ اور لبنان کے اسلامی عسکریت پسندوں نے قید کر لیا تھا۔

ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام برطانیہ سمیت تمام دنیا میں امن کے لیئے بہت ضروری ہے۔