Friday, 08 September, 2006, 03:55 GMT 08:55 PST
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ وہ ایک سال کے اندر وزیر اعظم کے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں گے تاہم انہوں نے اس بارے میں کس خاص تاریخ کا تعین کرنے سے انکار کر دیا۔
حکمران لیبر پارٹی کے چند ارکان کے حکومتی عہدوں سے مستعفی ہونے کے بعد
انہوں نے کہا کہ آئندہ لیبر پارٹی کی کانفرنس ان کی بحیثیت وزیر اعظم آخری کانفرنس ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کا معاملہ ان پر چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہی ملک کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے اپنی حکمران جماعت کے حالیہ رویے کے سلسلے میں عوام سے معافی مانگی اور کہا کہ انہیں اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ’ہمارا طرزِ عمل مثانی نہیں تھا‘۔
انہوں نے کہا کہ لیبر جماعت کی ایک بڑی اکثریت اس بات کو سمجھتی ہے کہ تاریخ کا تعین کرنا ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں اور حکومت کو ملک کو درپیش اہم امور پر توجہ دینی چاہیے۔
وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ وزاتِ عظمیٰ چھوڑنے کے ٹائم ٹیبل کا اعلان نئے سال کے شروع میں کریں گے اور مئی میں اقتدار پارٹی کے نئے لیڈر کو سونپ دیں گے۔
ٹونی بلیئر پر ان کی جماعت کے ارکان کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ اقتدار چھوڑنے کی تاریخ کا اعلان کریں۔
خیال ہے کہ وہ جیسا ان کے دوستوں نے کہا ہے سن دو ہزار سات کی خزاں میں لیبر پارٹی کانفرنس کے موقع پر عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔
دریں اثنا سابق وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے چانسلرگورڈن براؤن اور ان کے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ وہ بلیئر کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوششیں بند کر دیں۔
بلنکٹ نے یہ اپیل بلیئر حکومت کے آٹھ جونیئر ارکان کی جانب سے استعفوں کے بعد کی۔ یہ ارکان لیبر پارٹی کے وفادار سمجھے جانے والے ان ارکان میں شامل ہیں جو سن دو ہزار ایک میں منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے ایک خط میں بلیئر سے مستعفی ہونے کی اپیل کی ہے۔
برطانوی اخبار ’دی سن‘ کا کہنا ہے کہ بلیئر اگلے سال مئی تک اقتدار چھوڑ دیں گے۔ دس ڈاؤننگ سٹریٹ نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔
تاہم گورڈن کے اہم حمایتی رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلیئر کو اپنی روانگی کے بارے میں بتانا چاہیے اور اس سلسلے میں انہیں لوگوں کے سامنے آ کر اس بات کا اعلان کرنا چاہیے۔
سابق وزیر ڈوگ ہینڈرسن جو خود بھی براؤن کی حمایت کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ اگلے بارہ ماہ میں بلیئر کیا حاصل کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے آخر تک لوگوں کے سامنے ایک نیا لیڈر آ جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ اگلے سال اپریل میں مقامی انتخابات متوقع ہیں۔
بلئیر کے اپنا عہدہ چھوڑنے کے بارے میں متضاد اطلاعات اس وقت شروع ہوئیں جب لیبر پارٹی کے وفادار سمجھے جانے والے سترہ ارکان پارلیمان نے ایک خط میں بلیئر کو غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کے لیئے عہدے سے سبکدوش ہونے کے لیئے کہا۔