Wednesday, 06 September, 2006, 16:47 GMT 21:47 PST
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق تارکین وطن خواتین اور لڑکیوں کی تعداد 95 ملین ہے جو کہ بین الاقوامی تارکین وطن کی تعداد کا نصف ہے ۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے جیسا کہ انہیں بہ آسانی سمگل کرنے کے ساتھ زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا فیصلہ کرتی ہے لیکن عمر کم ہونے کی وجہ سے وہ قانونی طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک نہیں جا سکتے۔ اور اسی وجہ سے انہیں بھی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ملکوں کی معیشت اور ان کی عمر رسیدہ عوام کو ان نقل مکانی کرکے آنے والے لوگوں سے بہت زیادہ فاہدہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق نقل مکانی کر کے آنے والی خواتین نے 2005 میں اپنے گھروں کو 149 بلین پاؤنڈ بھیجے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے ترقی پذیر ملکوں میں بیرونی ممالک کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن کے بعد بیرون ملک کام کرنے والی آبادی کی بھیجی ہوئی رقوم ان ملکوں کی آمدن کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔
جیسا کہ نقل مکانی کرنے والی خواتین کی بڑی تعداد گھروں میں کم تنخواہ پر کام کرتی ہے اس لیے مزدوروں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین سے وہ زیادہ استفادہ حاصل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی انہیں اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ وہ کسی یونین کا حصہ بنیں۔
رپورٹ کے مطابق ان خواتین کی ایک بڑی تعداد کام کی زیادتی، مار پیٹ اور جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کے آبادیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو ڈاریکٹر تھورایا احمد اُوبید کا کہنا ہے ’یہ رپورٹ حکومتوں اور عام لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ نقل مکانی کرنے والی ان خواتین کی معاشی ترقی میں شمولیت کو پہچانیں اور ان کے انسانی حقوق کو تحفظ دیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ مختلف ملک نقل مکانی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ اور اس کے ساتھ اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ان وجوہات کو ختم کیا جائے جو کہ ان خواتین کو نقل مکانی پر مجبور کرتی ہیں‘۔