Wednesday, 06 September, 2006, 11:20 GMT 16:20 PST
چانسلرگورڈن براؤن کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعوے کافی نہیں ہیں کہ بلیئر اگلے سال مئی میں لیبر پارٹی کو چھوڑ دیں گے۔
انہوں نے وزیراعظم ٹونی بلیئر سے درخواست کی ہے کہ وہ عوام کے سامنے اپنے جانے کی تاریخ کا اعلان کریں تاکہ پھر ان کی واپسی ممکن نہ ہو سکے۔
چانسلر گورڈن کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ گورڈن کاخیال ہے کہ اس بارے میں ایک عوامی بیان جاری ہونا چاہیے۔
برطانوی اخبار ’دی سن‘ کا کہنا ہے کہ بلیئر اگلے سال مئی تک اقتدار چھوڑ دیں گے۔ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔
تاہم گورڈن کے اہم حمایتی رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلیئر کو اپنی روانگی کے بارے میں بتانا چاہیے اور اس سلسلے میں انہیں لوگوں کے سامنے آ کر اس بات کا اعلان کرنا چاہیے۔
سابق وزیر ڈوگ ہینڈرسن جو خود بھی براؤن کی حمایت کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ اگلے بارہ ماہ میں بلیئر کیا حاصل کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے آخر تک لوگوں کے سامنے ایک نیا لیڈر آ جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ اگلے سال اپریل میں مقامی انتخابات متوقع ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلیئر کے جانے کا جو وقت ان کے ساتھیوں نے دیا ہے یعنی اگلے بارہ ماہ تک، وہ کسی نئے رہنما کی نامزدگی کے لئیے انتہائی بدترین وقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت دوسرے رہنماؤں کی نسبت گورڈن ہی سب سے قابل رہنما ہیں۔
’دی سن ‘ کے بدھ کے شمارے میں کہا گیا ہے کہ ٹونی بلیئر آئندہ سال اکتیس مئی کو لیبر پارٹی کی سربراہی چھوڑنے کا اعلان کریں گے۔ ان کے وزارت عظمیٰ کی کرسی چھوڑنے کا وقت چھبیس جولائی دو ہزار سات کو ختم ہو جائے گا۔
بلئیر کے اپنا عہدہ چھوڑنے کے بارے میں متضاد اطلاعات اس وقت شروع ہوئیں جب لیبر پارٹی کے وفادار سمجھے جانے والے سترہ ارکان پارلیمان نے ایک خط میں بلیئر کو غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کے لیئے عہدے سے سبکدوش ہونے کے لیئے کہا۔