Tuesday, 05 September, 2006, 15:20 GMT 20:20 PST
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
جون میں فلسطینی چھاپہ ماروں نے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر کئی حملے کیے جن میں سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے ۔
عرب زرایع ابلاغ کے مطابق قیدیوں کا یہ تبادلہ مصر کے ان فریقوں میں صلح کروانے کے بعد اب جلد ہو جائے گا۔
محمود عباس نے روزنامہ بحرانی اخبار الخلیج سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ معاہدہ جس میں قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا اس بات پر منحصر ہو گا کہ اسرائیلی فوجی کو مصر کے حوالے کر دیا جائے اور اس کے بعد رہا کیے جانے والے فلسطینی جنگی قیدیوں کی تعداد کے بارے میں اعلان کیا جائے گا‘۔
اسرائیلی فوجی کی رہائی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔
نائب اسرائیلی وزیر اعظم شمعون پئیرز نے مجوزہ ملاقات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ امن کے منصوبے پر بات چیت کا دوبارہ آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
ایک سال قبل اسرائیل نے یک طرفہ طور پر اپنی فوجوں اور یہود آبادکاروں کو غزہ سے نکال لیا تھا۔ اب ایہود اولمرت مشرقی کنارے پر دوبارہ اپنی فوجیں بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، وہ صرف کچھ آبادیوں کو خالی کروا رہے ہیں لیکن بڑی آبادیوں پر اپنا قبضہ جاری رکھیں گے۔
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعلقات جنوری کے انتحابات میں حماس کی کامیابی کے بعد مزید خراب ہو گئے تھے۔
لیکن شمعون پئیرز نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ عباس محمود کو بات چیت کے لیے بلایا جانا چاہیے اور میرے خیال میں وزیراعظم آنے والے دنوں میں ایسا کریں گے۔ نقشہ راہ پر بات چیت کا دوبارہ آغاز ہو گا اور جب قیدیوں کا تبادلہ ہو جائے گا تو دونوں رہنماؤں کے ملاقات ہو گی‘۔
اسرائیلی اور فلسطینی قیادتوں میں ملاقات ایہود اولمرت کے وزیر اعظم بنے کے بعد صرف ایک مرتبہ ہی ہوئی ہے۔