Saturday, 02 September, 2006, 15:51 GMT 20:51 PST
عراق میں گیارہ پاکستانیوں سمیت چودہ جنوبی ایشیائی زائرین کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے اپنے تمام شہریوں کو عراق کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان زائرین کو ایک نامعلوم مسلح افراد ہلاک کر دیا تھا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اردن میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے کہ اب بھی جو پاکستانی عراق میں موجود ہیں انہیں فوری واپسی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
اس سے پہلے بھی حکومت پاکستان کئی بار متنبہ کرنے کے باوجود ایسے پاکستانی مزدور عراق میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں جو کویتی اور دوسری کمپنیوں کے ملازم ہیں۔
لیکن موجودہ واقع قدرے مختلف ہے کیونکہ اس میں ان زائرین کو نشانہ بنایا گیا ہے جو زیارتوں کے کربلا کے لیئے گئے تھے جسے اہلِ تشیع کے لیئے مقدس ترین مقام خیال کیا جاتا ہے۔
پاکستانی ترجمان نے زائرین کو کربلا لے جانے والی بس پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اردن میں سفیر سے کہا گیا ہے کہ وہ فوراً عراقی حکام سے رابطہ کریں اور دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی صحیح تعداد کی تصدیق کریں۔
اس سلسلے میں جاری کیئے جانے والے بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتا ہے اور صدر اور وزیراعظم نے بیان کے ذریعے ہلاک ہونے والے زائرین کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔
پاکستانی ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں صورتِ حال دشوار ہے اور حکومت نے پاکستانیوں سے کہا ہے کہ اول تو عراق کا سفر نہ کریں اور جو وہاں ہیں وہ اس وقت تک مکمل احتیاط سے کام لیں جب تک ان کی واپسی کے انتظامات نہیں ہو جاتے۔