Wednesday, 30 August, 2006, 10:00 GMT 15:00 PST
عراقی دارالحکومت بغداد کے ایک مصروف بازار میں بم دھماکہ ہوا ہے جس میں پولیس کے مطابق 24 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہوگئےہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ شرجہ مارکیٹ میں ہونے والا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ انسانی اعضاء اور ملبہ دور دور تک بکھر گیا۔
اس مقام کو اکثر و بیشتر پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
ایک اور بم دھماکے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 12 زخمی بتائے جارہے ہیں۔ یہ دھماکہ ہلہ کے علاقے میں فوجی بھرتیوں کے مرکز کے نزدیک ہوا ہے۔ یہ علاقہ بابل کے صوبے میں واقع ہے جہاں شیعہ اور سنیوں کی ملی جلی آبادی مقیم ہے۔
اس علاقے میں بھی ایسی پرتشدد کارروائیاں اکثر ہوتی رہی ہیں۔
گزشتہ اختتام سے عراق بھر میں خونریز کارروائیوں کی نئی لہر آئی ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
شرجہ بازار میں ہونے والا دھماکہ صبح کے 10 بجے کیا گیا۔ بم ایک سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔ یہ مارکیٹ بغداد کے بڑے بازاروں میں سے ایک ہے۔
دھماکے کے بعد علاقے میں خون ہی خون پھیل گیا۔ کئی دکانوں کو شدید اگ لگ گئی جس پر بمشکل قابو پایا جاسکا۔
تین ہفتہ قبل اسی بازار میں کیئے گیے بم حملے میں 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
بدھ کو ایک علیحدہ واقعے میں بغداد کے ایک پٹرول پمپ کو بم کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
چند گھنٹے قبل مقامی وقت کے مطابق صبح کے 8 بجے ہلہ کے فوجی بھرتی کے مرکز کے نزدیک ایک بم دھماکہ کیا گیا۔ بم ایک سائیکل پر نصب تھا۔
فوجی اور پولیس بھرتی کے مراکز اکثر ایسے بمحملوںکا نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں۔
ہلہ میں فروری 2005 میں نہایت خونریز حملہ کیا گیا تھا جس میں 125 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔