Monday, 28 August, 2006, 11:54 GMT 16:54 PST
عراق میں ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں شیعہ ملیشیاء کے ساتھ جھڑپوں میں پچیس عراقی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ لڑائی عراقی فوج کی دیوانیہ شہر میں مقتدرہ الصدر کی مہدی ملیشیاء کے ایک دستے کی تلاش میں چھاپوں کے دوران اتوار کی رات شروع ہوئی۔
دیوانیہ جنرل ہسپتال کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ان کے پاس چونتیس لاشیں لائی جا چکی ہیں جن میں پچیس فوجی، سات شہری اور دو مزاحمت کار شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑائی میں ستر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بغداد میں وزارت داخلہ کی عمارت کے باہر ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق میں یہ پر تشدد واقعہ مزاحمتی کارروائیوں میں سترہ افراد کی ہلاکت کے ایک دن بعد پیش آیا ہے۔ خودکش کار بم حملے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ماضی میں بھی وزارت داخلہ کی عمارت کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد عمارت پر نگرانی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے۔ مرنے والوں میں پولیس کے آٹھ اہلکار بھی شامل ہیں۔
بغداد میں مقامی رہنماؤں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ مسلح افراد کا یہ گروہ مہدی آرمی سے الگ ہو گیا تھا کیونکہ ان کی قیادت نے عراق کے پرامن سیاسی امن میں حصہ لینے کی اپیل کی تھی جسے انہوں نے مسترد کردیا۔
مارچ دو ہزار تین میں امریکی قبضے کے بعد سے مزاحمت کار عراق میں تنصیبات اور اتحادی فوج کو تقریبًا روز ہی نشانہ بناتے رہے ہیں۔