Saturday, 26 August, 2006, 07:22 GMT 12:22 PST
اقوام متحدہ کے ایک سینئر ترجمان کے مطابق مختلف ملکوں نے لبنان میں امن فوج تعینات کرنے کے فوجی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
ایڈورڈ مورٹیمر نے بی بی سی کو بتایا کہ امن فوج کے لیئے دستے فراہم کرنے کی انہیں کئی ایشیائی ملکوں سے قابل ذکر پیش کشیں موصول ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے علاوہ مغربی ممالک امن فوج کے لیئے سات ہزار فوجی فراہم کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی قائم رکھنے کے لیئے پندرہ ہزار فوجیوں پر مشتمل امن فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق ترکی نے بھی فوجی مہیا کرنے کے بارے میں پیش کش کی ہے جو کہ ترکی کی لبنان کے ساتھ جغرافیائی قربت کی بنا پر بہت اہم ہے۔
اقوام متحدہ کو امید ہے کہ کچھ ہی دنوں میں امن فوج کے دستے لبنان پہنچنا شروع ہو جائیں گے گو کہ فن لینڈ نے جس کے پاس آج کل یورپی یونین کی سربراہی بھی کہا ہے کہ اسے فوجی لبنان بھیجنے میں چند مہینے لگ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہوں نے اٹلی سے بات کی ہے کہ وہ فروری میں امن فوج کی قیادت سنبھال لے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ امن فوج کی تعیناتی تک مکمل طور پر لبنان سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔