Saturday, 26 August, 2006, 11:24 GMT 16:24 PST
غزہ میں دو صحافیوں کو اغوا کرنے والوں نے ان کی رہائی کے لیئے جو ڈیڈ لائین مقرر کی تھی وہ ختم ہو چکی ہے اور قیدیوں کی رہائی کے لیئے اغوا کرنے والوں کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا۔
اس دوران مغوی صحافی سٹیو سنتانی جو امریکی خبر رساں ادارے فوکس کے لیئے کام کرتے ہیں اور نیوزی لینڈ کے کیمرہ مین اولف ویگ کی ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مغویوں سے اچھا سلوک کیا جا رہا ہے۔
یہ ویڈیو اغوا کرنے والوں نے فلسطین کی ایک خبر رساں ادارے کو فراہم کی ہے۔
اغوا کرنے والے جہاد بریگیڈ نامی گروہ نے فلسطینی حکومت سے کہا تھا کہ وہ امریکہ سے امریکہ میں قید مسلمان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرے اور اس مطالبے کی تکمیل کے لیئے برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق صبح دس بجے تک کا وقت مقرر کیا تھا۔
اغوا کرنے والوں نے مغویوں کی رہائی کے لیئے یہ شرط تو لگائی تھی لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ اگر ان کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو وہ مغویوں کے ساتھ کیا کریں گے۔
امریکہ اور نیوزی لینڈ کی حکومتوں نے اس معاملے پر کسی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔
اس دوران حماس نے، جس نے منتخب ہو کر فلسطین میں حکومت بنائی ہے اور جسے امریکہ اور اس کے اکثر اتحادی فلسطینیوں کا سب سے بڑا شدت پسند گروہ قرار دیتے ہیں، اس اغوا کی مذمت کی ہے اور اسے فلسطینی مفاد کے منافی قرار دیا ہے۔
امریکی صحافی سٹیو سنتانی کی اہلیہ انیتا میکناٹ فلسطین پہنچ گئی ہیں اور انہوں نے فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کی ہے جنہوں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ مغویوں کی رہائی کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔