Thursday, 24 August, 2006, 01:14 GMT 06:14 PST
امریکہ نے جوہری پروگرام کی عوض مراعات کی پیشکش پر ایرانی جواب کو بقول امریکہ عالمی مطالبات سے کم قرار دیا ہے۔ دوسری جانب روس اور چین نے اس معاملے کو گفتگو سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
ایرانی جواب پر اپنے پہلے باضابطہ ردعمل میں امریکہ نے ایران کی طرف سے اکیس صفحات پر مشتمل جواب کو اقوام متحدہ کے مطالبات سے کم تر قراردیا ہے۔ تاہم امریکی دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس دستاویز کا بغور مطالعہ کررہا ہے اور آئندہ کے ردعمل پر اتحادیوں سے مشورہ کرے گا۔
اگرچہ ایرانی جواب کی تفصیلات منظرعام پر نہیں آئی ہیں لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایک بات بالکل واضح ہے کہ ایران اب بھی یورینیم کی افزودگی معطل کرنے سے انکار کررہا ہے جو یورپ اور امریکہ کا اہم ترین مطالبہ ہے۔
دوسری جانب چینی وزارت خاجہ کی طرف سے بیجنگ میں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امید کی جا رہی ہے کہ فریقین پُرسکون رہتے ہوے صبر اور لچک کا مظاہرہ کریں گے تاکہ بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ ایران کے جواب کا ’بغور مطالعہ‘ کر رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’چین کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جائے اور یہی سب فریقین کے مفاد میں ہے۔‘
روس نے بھی اس مسئلے پر چین کی مفاہمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام کے باعث پیدا ہونے والے بحران کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔
اسی اثنا میں برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کی طرف سے جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق ایران علاقائی بالادستی کے باعث جوہری توانائی کے پروگرام کے مسلئے پر بات چیت کو طول دے سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کی طرف سے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا ہے۔ اس جنگ سے ’ایران کے دو علاقائی مخالف حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے جن میں طالبان کی حکومت کا افغانستان میں اور صدام حسین کی حکومت کا عراق میں خاتمہ شامل ہیں۔‘