Wednesday, 23 August, 2006, 12:35 GMT 17:35 PST
لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج بڑھانے کے لیے دوبارہ کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں یورپی یونین کے حکام برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں۔ ملاقات میں یہ دیکھا جائے گا کہ کونسے ملک امن فوج میں اپنے فوجی بھیجنے پر تیار ہے۔
اقوام متحدہ ابھی تک یورپی ملکوں سے ملنے والے جواب سے مایوس ہوئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس ’عارضی‘ جنگ بندی کو جاری رکھنے کے لیے امن فوج کی تعداد میں جلد از جلد اضافہ کرنا بہت ضروری ہے۔
امن فوجیوں کے لیے باضابطہ احکام کی کمی کے باعث کئی ملک اپنے فوجی لبنان بھیجنے سے کترا رہے ہیں۔ خصوصی طور پر وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ رہنما اصول مرتب کیے جائیں کہ حزب اللہ کو نہتا کرنے کے مسئلے پر امن فوج کو کس حد تک کام کرنا ہو گا۔
دس روز سے جاری جنگ بندی کے دوران بھی مختلف مسلح گرپوں کے درمیان جھرپیں ہوئیں ہیں اور اسرائیلی کمانڈوز کی جانب سے لبنان کے اندر ایک حملہ بھی ہوا ہے۔
عرب خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین فوجی اس وقت زخمنی ہوئے جب ان کا ٹینک جنوبی لبنان میں ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔
اٹلی نے تین ہزار فوجی بھیجنے پر رضا ظاہر کی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے امن فوج کے لیے جاری ہدایات کو واضح کیا جائے۔
فرانس نے بھی انہیں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے دو سو فوجی بھجنے کی دعوت دی ہے۔ جبکہ یورپی یونین کے باقی ملکوں نے فوجی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن بہت کم تعداد میں فوجی بھجنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
برسلز سے بی بی سی کے نمائندے ٹم فرینکس کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں یہ کوشش کی جائے کی کہ زیادہ سے زیادہ ملکوں سے فوجی بھجوانے کے لیے آمادگی لی جائے۔
اس مسئلے پر مزید بات چیت جمعہ کو یورپی پونین کے وزائے خارجہ کی کوفی عنان سے ملاقات میں کی جائے گی۔