Wednesday, 23 August, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST
تہران کی طرف سے جوہری مسئلے پر مذاکرات کی دعوت کے جواب میں روس اور چین نے کہا ہے کہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی اس مسئلے کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
بیجنگ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امید کی جا رہی ہے کہ فریقین پُرسکون رہتے ہوے صبر اور لچک کا مظاہرہ کریں گے تاکہ بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے اس مطالبے کے بعد کہ ایران یورینیم کو افزدہ کرنا بند کر دے ایران نے دنیا کے چھ طاقت ور ملکوں کے ساتھ ’سنجیدہ مذاکرات‘ کرنے کی دعوت دی ہے۔
اس خدشے کے پیشِ نظر کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے کہا گیا ہے کہ ستمبر تک ایران یورینیم کو افزدہ کرنا بند کر دے ورنہ اس پر پابندیاں لگا دی جائیں گی۔
تہران نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ بم بنا رہا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جوہری توانائی کے حصول کے لیے کام کرے۔
امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس اور جرمنی نے ایران کو اس بات کی دعوت دی ہے کہ اگر وہ یورینیم کو افزدہ کرنا بند کر دے تو وہ جوہری توانائی حاصل کرنے میں اس کی مدد کریں گے۔
چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ ایران کے جواب کا ’بغور مطالعہ‘ کر رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’چین کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جائے اور یہی سب فریقین کے مفاد میں ہے۔‘
روس نے بھی اس مسئلے پر چین کی مفاہمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام کے باعث پیدا ہونے والے بحران کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔
اسی اثنا میں امریکی تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس کی طرف سے جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق ایران علاقائی بالادستی کے باعث جوہری توانائی کے پروگرام کے مسلئے پر بات چیت کو طول دے سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کی طرف سے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں سب سے زیادہ فاہدہ ایران کو ہوا ہے۔ اس جنگ سے ’ایران کے دو علاقائی مخالف حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے جن میں طالبان کی حکومت کا افغانستان میں اور صدام حسین کی حکومت کا عراق میں خاتمہ شامل ہیں۔‘
ایران کا اثرورسوخ عراق میں امریکہ سے زیادہ ہے اور افغانستان میں بھی اس کی ’واضح موجودگی‘ ہے۔