Tuesday, 22 August, 2006, 23:51 GMT 04:51 PST
اقوام متحدہ کے ایک سینئیر اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں اگلے دو یا تین ماہ تک حالات نازک ہی رہیں گے۔
یہ بات تیرئیے روئید لارسن نے اسرائیلی حکومت سے بات چیت کے لئے یروشلم پہنچنے پر کہی۔
لبنان میں چند معمولی جھڑپوں اور اسرائیلی کمانڈوز کے ملک کے اندر ایک آپریشن کے باوجود جنگ بندی ابھی تک قائم ہے۔لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امن قائم رکھنے کے لئے ایک عالمی فوج کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔
اٹلی نے اس طرح کی فوج کی رہنمائی کرنےاور تین ہزار فوجی لبنان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے لیکن باقی ممالک ایسا کرنے سے جھجھک رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس فوج کا مینڈیٹ واضح نہیں ہے۔
فن لینڈ نے، جو یورپی یونین کا موجودہ صدر ہے، جمعے کے روز یورپی بلاک کے وزرائے خارجہ کی ایک غیر معمولی میٹنگ بلائی ہے تاکہ اس طرح کی عالمی فوج کی تشکیل کے بارے میں بات کی جاسکے۔
لبنان کے پندرہ ہزار فوجی ملک کے جنوبی حصے میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے دو ہزار امن فوجیوں کے ہمراہ تعینات کئے جارہے ہیں۔ اسرائیل نے اس سلسلے یہ مطالبہ کر کے مزید پیچیدگی پیدا کردی ہے کہ اگر ان ممالک کے فوجی امن فوج میں شامل کئے گئے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ ایسی فوج کو ویٹو کردے گا۔
تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ایسا ویٹو کا حق حاصل نہیں ہے۔
اسرائیل کے طرف سے لبنان کا بری اور بحری محاصرہ جاری ہے اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شام کی سرحد پر امن فوج کی تعیناتی کے بعد وہاں سے حزباللہ کو اسلحے کی سپلائی رکنے پر وہ یہ محاصرہ ختم کرے گا۔