Sunday, 20 August, 2006, 07:43 GMT 12:43 PST
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغان اور اتحادی افواج کے ساتھ جنوبی صوبہ قندہار میں جھڑپوں میں بہتر طالبان ہلاک ہوئے ہیں تاہم طالبان نے صرف بارہ کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق سنیچر کی رات پنجوائی ضلع میں کم از کم بہتر مشتبہ طالبان اس وقت ہلاک ہوئے جب انہوں نے ایک بازار پر حملہ کیا اور انہیں پولیس کی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جھڑپ میں چار افغان پولیس اہلکار بھی مارے گئے جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔ تین سپاہی لاپتہ ابھی بھی ہیں۔
قندہار میں بی بی سی کے میر وائیس کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں تین مکانات پر فضائی بمباری بھی کی گئی جس سے اتنی ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجوائی کے ضلعی افسر نیاز محمد نے انہیں بتایا کہ یہ لڑائی سینکڑوں طالبان کی جانب سے پنجوائی پر حملے کے بعد شروع ہوئی۔
میر وائیس کا کہنا ہے کہ پنجوائی میں کئی مقامات پر اب بھی طالبان کا قبضہ ہے اور اس علاقے میں حالات گزشتہ پانچ ماہ سے کشیدہ ہیں۔
تاہم آزاد ذرائع سے مرنے والوں کی صحیح تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ مرنے والوں میں عام شہری بھی ہوسکتے ہیں۔
اس آپریشن کے دوران نیٹو کے ہوائی جہاز بھی استعمال کیئے گئے اور یہ جھڑپیں جمعہ کو دو مختلف واقعات میں چار نیٹو اور ایک افغان فوجی کی ہلاکت کے بعد ہوئی ہیں۔
کابل میں نیٹو کے ترجمان نے اس آپریشن کو قابلِ ذکر کامیابی قرار دیا ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ نیٹو افواج نے افغان فوج اور پولیس کے ہمراہ لڑتے ہوئے شدت پسندوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
افغانستان کو جنوبی علاقہ سنہ 2001 میں طالبان حکومت کے زوال کے بعد سے مزاحمت کا گڑھ رہا ہے اور جب سے نیٹو افواج نے جنوبی افغانستان کی کمان سنبھالی ہے اس وقت سے انہیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔