Sunday, 20 August, 2006, 04:50 GMT 09:50 PST
وزیراعظم عراق نور المالکی نے متنبیہ کیا ہے کہ جو لوگ مساجد کو فرقہ ورانہ اشتعال انگیزی کے لیئے استعمال کریں گے ان پر انسدادِ دہشتگردی کے قانون کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔
یہ بات انہوں نے آٹھویں صدی امام موسیٰ کی برسی پر ایک پیغام میں کہی ہے۔ دارالحکومت بغداد میں واقع كاظميہ مسجد کے قریب امام موسٰی کاظم کی برسی کےجلوس میں بھگدڑ کے باعث پچطلے سال ایک ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس سال اس موقع پر خصوصی حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں جن میں خاص طور پر عراقی دارالحکومت گاڑیوں پر پابندی کا نفاذ ہے۔
سنیچر کو کاظمیہ میں سات زائرین کی گولی مار کر ہلاک کیئے جانے کے واقعے کے بعد پولیس نے مزار کے آس پاس کی گلیوں کی ناکہ بندی کر دی تھی۔
نوری مالکی نے متنبیہ کیا ہے کہ تقریبات کو سیاسی مظاہروں میں تبدیل نہ کیا جائے۔
زائرین کی بڑی تعداد گروہوں کی شکل میں امام موسیٰ کے مزار کی طرف جا رہی ہے اور انہوں نے پیلیے اور سبز ربگ کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں جو مذہبی تقدیس کا علامتی اظہار ہیں۔
![]() | |
| امام کاظم کے مزات تک رسائی کا راستہ |
امام موسیٰ کا مزار دریائےدجلہ کے اس طرف واقع ہے اور اس تک جانے کے لیئے ایک پل سے گزرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ سال اسی درمیانی پل پر اس وقت بھگدڑ مچ گئی جب کسی نے خود کش حملے کی افواہ پھیلا دی اور لوگ ایک ساتھ پل کے دوسری طرف پہنچنے کی کوشش کرنے لگے۔
اسی کوشش میں کئی لوگ دریا میں بھی گرگئے اور کچلے بھی گئے جن میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔