Saturday, 19 August, 2006, 11:03 GMT 16:03 PST
اسرائیلی فوج نے ایک چھاپے میں حماس سے تعلق رکھنے والے فلسطین کے نائب وزیراعظم ناصر الشاعرکو غرب اردن میں رملہ اللہ کے علاقے میں ان کے گھر سے حراست میں لیا ہے۔
ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی سنیچر کو اعلیٰ الصبح ان کے گھر میں داخل ہو گئے۔ اسرائیل کی فوج نے ناصر الشاعر کے حراست میں لیے جانے تصدیق کردی ہے۔ ناصر حماس کی حکومت کے ایک رہنما شمار کیے جاتے ہیں۔ حماس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
اسرائیل نے تقریباً تیس فلسطینی رکن پارلیمان کو حراست میں لے رکھا ہے یعنی جون میں حماس کے ایک اسرائیل فوجی کو اپنے قبضے میں کیے جانے کے بعد سے اسرائیل اب تک فلسطینی پارلیمان کے تہائی اراکین کو گرفتار کر چکا ہے۔
ناصر کی بیوی کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر جون سے جاری اسرائیلی کریک ڈاؤن کے بعد سے چھپے ہوئے تھے اور اس دوران بہت کم ہی گھر آتے تھے۔
ناصر کی بیوی کا کہنا ہے کہ سویرا نکلنے سے پہلے فوج کی کئی جیپوں نے گھر کا محاصرہ کر لیا اور پھر فوجی گھر میں گھس آئے۔
ایک افسر نے ان کے شاختی کاغذات دیکھنے کے بعد کہا کہ سوری میڈم، آپ کے شوہر کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔انہوں نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ انہیں چار بچوں سے الوادع لینے کی اجازت دی گئی۔
خبررساں ادارے اے ایف پی نے اسرائیل کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ناصر کی حراست حماس کی بنیاد پرست حکومت کے خلاف اس کی لڑائی کا حصہ ہے۔
اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کا مرکز غزہ کی پٹی ہے جو حماس کا گڑھ ہے لیکن غرب اردن سے بھی اسلامک موومنٹ کے سیاسی رہنما حراست میں لیے جاتے رہے ہیں۔
اس بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس وجہ سے اس کے رہنما گرفتاری کیے جا رہے ہیں۔