Friday, 18 August, 2006, 04:49 GMT 09:49 PST
وسعت اللہ خان
بیروت، لبنان
تیرہ جولائی تک بنت جبیل تیس پینتیس ہزار کی آبادی کا ایک اچھا خاصا کاروباری خوشحال قصبہ تھا۔
یہاں کے لوگ دو وجوہات کے سبب امیر تھے۔ایک تو تقریباً ہر دوسرے خاندان کا کم ازکم ایک فرد آسٹریلیا، امریکہ یا کینیڈا کا شہری ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کی کفالت کرتا ہے۔
دوسرا یہ کہ بنت جبیل جنوبی لبنان کے وسطی علاقے کا ایک اہم کاروباری مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔آس پاس کے علاقے کے لوگ باگ پینتیس کیلومیٹر دور طائر جانے کے بجائے بنت جبیل میں ہی خریداری کر لیتے تھے۔اس کا ایک ثبوت ریڈی میڈ گارمنٹس کی وہ بھری ہوئی دکانیں ہیں جن کے شیشے اور شٹر اسرائیلی گولوں کی دھمک نے توڑ ڈالے لیکن کپڑے ابھی تک شوکیسوں میں پڑے ہوئے ہیں یا ہینگرز سے لٹک رہے ہیں۔
تقریباً ستر فیصد عمارتیں اور گھر تباہ ہوچکے ہیں۔ بھلا جب چونتیس دن تک صرف ایک سو پچاس میٹر کی دوری سے توپ کے گولے داغے جائیں گے اور خودکار ڈرون، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور ایف سولہ طیارے اوپر سے میزائیل، شیل اور پانچ پانچ سو پاؤنڈ کے بم برسائیں گے تو وہاں کیا رہے گا۔ جو عمارتیں یہ سب جھیل گئیں وہ بھی ایسی ہیں جیسے چیچک کے ہزاروں داغ چہرے پر نمودار ہوجائیں۔
![]() | |
| حزب اللہ کا امریکی وزیر خارجہ کے لیئے جواب |
دوسری ایمولینس میں وہ لاش تھی جو ہمارے سامنے ریڈ کراس والوں نے ایک ٹوٹے ہوئے گیراج کے ملبے سے نکالی تھی۔ لاش کیا تھی بس ایک کھوپڑی اور ہڈیاں تھیں۔ ریڈ کراس والوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی عمررسیدہ صاحب تھے جو بمباری کے دوران کم ازکم پندرہ روز پہلے پتھروں تلے دب گئے ہوں گے۔ ریڈ کراس والوں نے بتایا کہ اب بھی بہت سی لاشیں تباہ شدہ عمارتوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ انکے سڑنے کی بو انکا پتہ دے دیتی ہے۔
![]() | |
| اب بھی ملبے سے لاشوں کو نکالا جا رہا ہے |
بنت جبیل کے بالکل سامنے کی پہاڑی پر معارون الراس کا گاؤں ہے۔ جس کے بعد اسرائیل کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ اس گاؤں کے بھی دوتین خاندان بنت جبیل میں گھوم رہے تھے کیونکہ انکے گاؤں پر اسرائیلی فوج کا قبضہ ہے اور وہ دور سے ہی ہوائی فائرنگ کر کے لوگوں کو بھگا دیتی ہے۔
بنت جبیل اور ایتا الشعاب کو اسرائیلیوں نے اگرچہ تار تار کردیا لیکن آخری دن تک قابو نہ پاسکے جیسا کہ جرمنوں کے ساتھ سٹالن گراڈ میں ہوا تھا۔
میں طائر سے بنت جبیل تک آتے جاتے نو دیہاتوں ہناویہ، قانا، تبنین، کونین، عین آتا، حارث، صدقین، یاتر اور بیتِ یاحون سے گزرا۔
طائر شہر کے جلے ہوئے دس پیٹرول پمپوں سے لے کر بنت جبیل تک ایسا لگتا ہے جیسے اعشاریہ آٹھ کا زلزلہ آیا ہو یا کوئی سونامی گزر گیا ہو یا پھر کسی کنگ کانگ نے اس علاقے کو پنجوں میں لے کر جھاڑ دیا ہو۔