Wednesday, 16 August, 2006, 13:00 GMT 18:00 PST
لیفٹینیٹ جنرل ہالوٹس نے کہا ہے کہ ان کے ستائیس ہزار پانچ سو ڈالرز کی مالیت کے شیئرز بیچنے کو کسی بدعنوانی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
جنرل ہالوٹس نے کہا ہے کہ انھیں شیئرز بیچنے سے پانچ ہزار چار سو ڈالرز کا نقصان ہوا ہے اور ساتھ ہی ان کی عزت کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔
لیکن کچھ قانون دانوں نے کہا ہے کہ پروسیکیوٹر جنرل کو اس معاملے کی تفتیش کرنی چاہئے۔
اسرائیلی اخبار ’ماریو‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے سربراہ بارہ جولائی کو سپاہیوں کے پکڑے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی اپنے بنک شیئرز بیچنے کے لئے گئے تھے۔
جنگ کے شروع میں شیئرز انڈیکس دس فیصد نیچے گر گیا تھا مگر پھر جلدی ہی بحال ہو گیا تھا۔
جنرل ہالوٹس نے اخبار کو بتایا کہ یہ سچ ہے کہ انھوں نے بارہ جولائی کی دوپہر کو شیئرز بیچے تھے لیکن اسے جنگ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس وقت تک انہیں نہیں پتا تھا کہ جنگ شروع ہو جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ رپورٹ تعصب پر مبنی ہے۔ جنرل نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے مگر میں اس قسم کے معاملات میں نہیں الجھنا چاہتا جس میں میری عزت داؤ پر لگ جائے۔
جائزہ کاروں کا خیال ہے کہ لگتا نہیں ہے کہ جنرل نے کسی ٹریڈنگ قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم کچھ قانون دانوں نے جنرل سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
لیبر ایم پی کولیٹ نے کہا ہے کہ جب ملک کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہو تو اس قسم کے کام کو ترجیح دینا مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
نیشنل ریلیجس پارٹی کے زیولون نے کہا ہے کہ قوم کے مشکل وقت میں آرمی چیف سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جنگ کی طرف توجہ دیں گے نہ کہ سٹاک مارکیٹ میں جیتنے اور ہارنے کی فکر کریں گے۔