Wednesday, 16 August, 2006, 17:40 GMT 22:40 PST
لندن سے واشنگٹن جانے والی ایک پرواز کو ایک مسافر اور جہاز کے عملے کے درمیان کشیدگی کے بعد لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں بوسٹن کے ہوائی اڈے پراتار لیا گیا ہے۔
ہوائی اڈے کے ایک ترجمان کے مطابق ایک مسافر کا رویہ مشکوک تھا جس بنا پر طیارے کو واشنگٹن کی بجائے بوسٹن پر اتار لیا گیا۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ حکام اس واقع کو دہشت گردی کا واقع قرار نہیں دے رہے۔
ابتداء میں یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ اس خاتون مسافر کے پاس سے ایک پیچ کس، ماچس کی ڈبیہ ، ویزلین اور ایک پرچہ نکلا تھا جس میں القاعدہ کا ذکر تھا۔ تاہم بعد میں ان اطلاعات کی تردید کر دی گئی تھی۔
بوسٹن پر اترنے کے بعد پولیس اور سکیورٹی حکام نے طیارے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور مسافروں کے سامان کی سونگھنے والے کتوں کی مدد سے رن وے پر تلاشی لی گئی۔
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی بوسٹن میں ترجمان ننتی ڈے کے مطابق ساٹھ سالہ یہ خاتون کلسٹرفوبیا یا بند جگہوں سے گھٹن کی بیماری کا شکار تھیں جس وجہ سے وہ بے چینی کا شکار ہو گئی تھیں۔