Tuesday, 15 August, 2006, 15:38 GMT 20:38 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت
جنوبی بیروت کے دو علاقوں دہائیہ اور ہرت ہریک پر اسرائیلی فضائیہ اورگن بوٹس نے چونتیس روزہ لڑائی میں بطورِ خاص توجہ دی کیونکہ یہ وہ محلے ہیں جنہیں حزب اللہ کی جنم بھومی سمجھا جاتا ہے۔ یہ محلے مشرقی بیروت کے علاقے اشرافیہ اور مغربی بیروت کے الحمرا کے مقابلے میں خاصےگنجان ہیں۔گنجانیت کی ایک وجہ غربت ہے اور غربت کے سبب بھائی چارہ بھی زیادہ ہے۔
ہرت ہریک میں گھستے ہی احساس ہوا کہ کسی نظریاتی علاقے میں آگئے۔ ہر چھوٹے بڑے چوک پر حسن نصراللہ کے بینرز۔ خمینی، خامنئی، امام جعفر صادق، شیخ فضل اللہ کے نام پر سڑکوں کے نام ہیں۔ ہر زخمی عمارت پر مزاحمتی نعروں والے بینرز آویزاں ہیں۔
مگر لوگ بڑی تیزی سے زندگی کو پھر سے لبیک کہہ رہے ہیں۔ حزب اللہ کے مسلح اور غیرمسلح رضاکار لوگوں کی رہنمائی کر رہے ہیں اور ان کے نقصانات کا سروے کر رہے ہیں۔ دکانوں کے شیشوں کی کرچیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ بلڈوزر ملبے کو ایک طرف جمع کر رہے ہیں۔ لوگ ملبے میں سے چیزیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بے شمار لوگ یہ دیکھنے آ رہے ہیں کہ ان کے فلیٹ کہاں گئے۔
![]() | |
| ابراہیم کی بیوی کو یہ فکر تھی کہ اس کے پیسے، شادی کے زیورات اور نکاح نامہ سب دب گیا |
’تمہیں کیا پتہ ہمارے ہاں ناک کی کیا اہمیت ہے۔ ٹھیک ہے کچھ نہیں رہا مگر ناک تو اونچی ہے۔ ہم سب ہیرو ہیں۔ گھر کا کیا ہے وہ تو پھر بن جائے گا‘۔
ایک جگہ ایک گیارہ منزلہ عمارت ملبے میں تبدیل ہو گئی تھی۔ وہاں پر کھڑے ایک نوجوان نے کہا میرا فلیٹ گیارہویں منزل پر تھا۔ اب تو سب منزلیں ایک ہی بن گئی ہیں۔ اسی عمارت کے بیسمنٹ میں میری گارمنٹ فیکٹری تھی۔ مگر پھر بھی اللہ کا شکر ہے۔
اسی عمارت کی ساتویں منزل پر ابراہیم وحید کا فلیٹ تھا۔ وہ جنگ کے بعد پہلی مرتبہ اپنی بیوی اور اکلوتے بیٹے کے ہمراہ ہرت ہریک کا حال دیکھنے آیا تھا۔ بتانے لگا کہ اس نے کویت میں دس برس محنت کر کے جو جمع کیا اس سے فلیٹ لے لیا۔ مگر فلیٹ تو ہے ہی نہیں۔ معلوم نہیں کیا ہوگا۔
ابراہیم وحید کی بیوی کو یہ فکر لاحق تھی کہ اس کے پانچ ہزار چھ سو ڈالر، شادی کے زیورات اور نکاح نامہ سب دب گیا۔
![]() | |
| اسرائیل نے جس آخری عمارت کو نشانہ بنایا تھا اس سے اب تک دھواں اٹھ رہا ہے |
کہنے لگا ’یہ میری بیوی ہے، قانا سے تعلق ہے اس کا۔ قانا کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔‘
ابراہیم وحید کے دس بھائی اسی بلڈنگ میں رہتے تھے مگر اب سب بیروت ایئرپورٹ کے نزدیک عارضی طور پر رہائش پزیر ہیں۔
ذرا سا آگے ایک سیاہ پوش خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ ایک اور عمارت کے ملبے پر کھڑی تھی۔ میں نے پوچھا کیا اسی علاقے میں رہیں گی۔ کہنے لگی، بالکل۔ ’یہاں سے اب کہیں اور جانا شکست ماننا ہے۔ اسرائیل اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتا ہے کہ گھر تباہ کردے اور بچے ماردے۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے۔ جو زندہ ہیں وہ ایک دن بڑے تو ہوں گے اور پھر بندوق اٹھالیں گے۔‘
میں نے دیکھا کہ لوگ اداس نہیں البتہ غصے میں ہیں اور مجھے ان لوگوں کو اس ملبے کے درمیان جو چونتیس دن پہلے زندگی سے ابلتا ہوا علاقہ تھا دیکھ کر اس کے علاوہ کچھ نہ یاد آ سکا کہ،
شکستگی نے یہ دی گواہی، بجا ہے اپنی یہ کجکلاہی
سنو کہ اپنا کوئی نہیں ہے، ہم اپنے سائے میں پل رہے ہیں