Monday, 14 August, 2006, 12:05 GMT 17:05 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت
لبنانی حکومت نے سلامتی کونسل کی فائر بندی قرارداد پر مکمل عمل درآمد کے لیئے صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ یہ مشورے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ اور لبنانی فوجیوں پر مشتمل دستے متعین کرنے کے بارے میں ہیں۔
کابینہ کا اجلاس پانچ گھنے کے بعد ملتوی کیا گیا۔ اس دوران اجلاس نے سلامتی کونسل کی فائر بندی قرارداد کی تحفظات کے ساتھ منظوری دی۔ تاحال ان تحفظات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈ کا کہنا ہے کہ کابینہ کا اجلاس پھر ہونے والا ہے اور اس اجلاس میں قرار داد پر عمل درآمد کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی اور اسے غیر مسلح کرنے کا مسئلہ بہرطور لبنانی حکومت کے لیئے ایک اہم مسئلہ رہے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب کابینہ متفقہ فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ جنوبی لبنان میں پندرہ ہزار لبنانی فوجیوں کا تقرر ممکن ہو سکے گا۔
اور اگر تعیناتی کے اس منصوبے پر عمل نہیں ہوتا تو بری جنگی جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔
اگر چہ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل کریں گے لیکن اگر دوسرے فریق نے طاقت کا استعمال کیا تو وہ جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔
حزب اللہ نے اس کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ جب تک اسرائیل کا ایک بھی فوجی لبنانی علاقے میں موجود رہے گا اس پر حملہ کیا جائے گا۔