Sunday, 13 August, 2006, 10:46 GMT 15:46 PST
سری لنکا کے جزیرہ نما علاقے جافنا میں حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان اہم علاقوں کے کنٹرول کے لیئے شدید لڑائی جاری ہے۔
حکومت کی جانب سے شدید شیلنگ اور گولہ باری کی گئی ہے اور فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کو باغیوں کی جانب سے کیا جانے والا ایک بڑا حملہ پسپا کر دیا ہے۔
جافنا سے اب تک ساٹھ ہزار لوگ نقلِ مکانی کر چکے ہیں اور کوئی ایک لاکھ کے قریب دونوں فریقوں کے درمیان جاری جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اس خانہ جنگی کے باوجود حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ باغیوں کے جانب سے بات چیت شروع کرنے کی پیشکش کو قبول کرنے کے لیئے تیار ہے۔
تامل باغیوں نے جمعے کو پیشکش کی تھی کہ وہ فائر بندی کی نگرانی کرنے والے مشن کے ذریعے بات چیت کرنے کے لیئے تیار ہیں۔
اس پیشکش کے بعد حکومت کے امن سکریٹیریٹ کے سربرہ پالیتھا کہونا نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے انتہائی مثبت جواب دیا ہے اور ہم فوری بات چیت شروع کر سکتے ہیں‘۔
اس دوران امن مشن کے ترجمان تھورفرنر اومارسن نے کا ہے کہ تاملوں نے اپنی بات چیت شروع کرنے کی درخواست کا اعادہ کیا ہے اور وعدہ کی ہے کہ اس بات چیت کے لیئے جو بھی تحریری طریقۂ کار طے ہو جاتا ہے تامل اس کی پاسداری کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تاملوں کو اب تک تحریری پیشکش کا انتظار ہے۔
کولمبو میں بی بی سی کی نامہ نگار دومیتھا لتھرا کا کہنا ہے کہ عام خیال یہ ہے کہ شمال میں جاری موجود لڑائی تاملوں نے شروع کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ تاملوں کی جانب سے امن بات چیت کی درخواست در اصل اس بات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے کہ تامل امن پسند ہیں نہ کہ جارح۔