Sunday, 13 August, 2006, 10:40 GMT 15:40 PST
رچرڈ ایلن گرین
بی بی سی نیوز، واشنگٹن
گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کے دنوں میں صدر بش نے اپنے بیان میں کہنے کی کوشش کی تھی کہ ’مسلمان بذات خود امریکہ کے دشمن نہیں‘۔
لیکن پانچ سال گزرنے کے بعد صدر بش نے جو بیان دیا وہ امریکی مسلم رہنماؤں کے مطابق اتنا ’محتاط‘ نہیں ہے۔ مسلمان حلقے بش کی جانب سے استعمال کیئے گئے ’اسلامک فاشِسٹ‘ کے الفاظ پر کافی برہم ہیں۔ یہ الفاظ بش نے حزب اللہ اور مبینہ طیارہ سازش کرنے والوں کے لیئے استعمال کی ہے۔
صدر بش نے یہ الفاظ اس ہفتے کئی مواقع پر استعمال کیئے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’دہشتگرد اپنا جہادی پیغام پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں جو اسلامی بنیاد پرستی اور اسلامک فاشزم پر مبنی ہے‘۔
دوسرے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’اسلامک فاشزم ایک نظریہ ہے جو حقیقت ہے‘۔
برطانیہ میں مبینہ طیارہ سازش کے سلسلے میں گرفتاریوں پر بھی ان کا کہنا تھا کہ ’اسلامی فاشسٹ ہم جیسے آزادی پسند لوگوں کو ختم کرنے کے لیئے ہر ممکن طریقہ استعمال کرنے کے لیئے تیار ہیں‘۔
![]() | |
| بش نے یہ بیان برطانیہ میں مبینہ طیارہ سازش کے انکشاف کے بعد دیا |
تاہم وائٹ ہاؤس نے اس شکایت کا کوئی جواب یا وضاحت نہیں دی ہے۔
احمد یونس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بش کی جانب سے ان الفاظ کا استعمال ایک غلطی ہے۔ ’فاشزم کو مسلمانوں کا نظریہ قرار دینا گمراہ کن ہے‘۔
مشی گن میں مسلم کمیونٹی کی ایک سرگرم کارکن زینب چامی کا کہنا ہے کہ ’بش انتظامیہ کو ایک نیا لفظ مل گیا ہے جو لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیئے استعمال کیا جائے گا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے الفاظ کےاستعمال سے مسلمانوں کے بارے میں امریکیوں کی رائے متاثر ہوگی۔
احمد یونس کے مطابق یہ الفاظ ان جدت پسند مسلمانوں کی رائے بھی تبدیل کرسکتے ہیں جو شدت پسندی سے نمٹنے کے لیئے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں۔
امریکہ میں گیلپ کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ہر پانچ امریکیوں میں سے دو مسلمانوں کے خلاف تعصب کا شکار ہیں۔