Saturday, 12 August, 2006, 10:37 GMT 15:37 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت
حکومت لبنان نے لڑائی کی روک تھام کے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر1701 کی منظوری دے ہے اور اتوار کو کابینہ کا ایک اور اجلاس طلب کیا ہے جس میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی جگہ لبنانی فوج کی تعیناتی کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔
اس سے قبل حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں اقوام متحدہ کی قرار داد کو بادلِ ناخواستہ قبول کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے جارحانہ کارروائیاں جاری رکھیں تو حزب اللہ اس کا بھر پور جواب دے
ادھر جنوبی لبنان میں گزشتہ چندگھنٹوں میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ میں شدید لڑائی کے نتیجے میں مقامی عرب ٹی وی چینل کے مطابق سترہ اسرائیلی فوجی ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں لیکن اسرائیلی فوجی ذرائع نے سات اسرائیلی فوجیوں کے مرنے اور ستر کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیل نے حزب اللہ کے چالیس چھاپہ ماروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا ہے لیکن اس ہیلی کاپٹر کتنے اسرائیلی فوجی سوار تھے اس کی تفصیلات فی الحال واضح نہیں ہیں۔
اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ اس کی کابینہ اتوار کے روز اقوام متحدہ کی قرارداد کی توثیق کر دے گی جس کے بعد پیر کی صبح جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔
قرار داد مانیں گے |
اس سے قبل اسرائیل نے نہایت تیزی کے ساتھ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی میں تین گنا اضافہ کر دیا ہے تاکہ جنگ بندی کے اعلان تک دریائے لیطانی کے تیس کلو میڑ کے علاقے پر قبضہ کیا جا سکے۔
اسرائیل نے پچاس ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اپنے سینکڑوں فوجیوں کو حزب اللہ کی پوزیشنوں کے پیچھے اتار دیا ہے اور اس وقت تقریباً تیس ہزار اسرائیلی فوجی لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔
اس فوجی کارروائی کو پچھلے تیس برس میں اسرائیل کی لبنان میں سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔اس دوران حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر راکٹ گرنے کا سلسلہ جاری رہا اور آخری اطلاعات آنے تک حزب اللہ نے اسرائیلی علاقے میں ستر کے لگ بھگ راکٹ فائر کیے۔
گزشتہ اسرائیل نے سلامتی کونسل کی قرار داد کی منظور کے بعد لبنان پر اپنے فضائی حملے جاری رکھے جن کے نتیجے میں مزید بیس لبنانی شہری ہلاک ہوئے۔ان میں پندرہ شہری طائر کے نزدیک رشاف کے قصبے میں مارے گئے۔ اس کے علاوہ سیدون کے بجلی گھر پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔اس دوران ریڈ کراس کے لیئے دو سو ٹن امداد لے کر کل سہ پہر ایک بہری جہاز قبرص سے طائر پہنچ گیا۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ الویرو ڈی ساتو نے کہا کہ جنوبی لبنان میں امن دستوں کی تعیناتی میں دس دن لگ سکتے ہیں