Saturday, 12 August, 2006, 11:23 GMT 16:23 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے بڑے اخبارات نے جمعرات کو منکشف کیئے جانے والے دہشت گردی کے مبینہ لندن پلان کی تفصیلات اپنے ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہیں۔
روزنامہ جنگ اور ڈیلی ٹائمز نے یہ رپورٹیں شائع کی ہیں کہ لندن سازش اس وقت پکڑی گئی جب زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے برطانیہ سے بھاری رقوم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بینکوں میں بھیجی گئیں۔
انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے لندن پلان کی ایک مختلف کہانی اپنے شہ سرخی کے ساتھ شائع کی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں قائم ایک خیراتی ادارہ نے گزشتہ سال دسمبر میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے ایک پاؤنڈ اسٹرلنگ میں بڑی رقم میرپور کشمیر کے تین مختلف بینکوں۔ سعودی پاک کمرشیل بنک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور حبیب بینک کے ذریعے تین افراد کے نام منتقل کیں۔
اخبار کے ذرائع کے مطابق یہ رقوم جن لوگوں کےنام منتقل کی گئی وہ تینوں کشمیری ہیں۔ تاہم اخبار کو ان کی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں۔
کندن سے بڑی رقم کی منتقلی |
اخبارکے مطابق جس چیز نے شبہ پیدا کی وہ یہ تھی کہ ایک بڑی رقم کسی ادارہ کی بجائے تین افراد کے نام منتقل کی گئی۔
روزنامہ ڈان نے اپنی صفحہ اول کی رپورٹ میں اس پلان کی تفصیلات ذرا مختلف بتائی ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ پلان کا انکشاف اس وقت ہوا جب پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے راشد رؤف نامی ایک برطانوی شہری کو حراست میں لیا گیا۔
ٹیلی فون اور میل کی نگرانی |
اخبار کے ذرائع کے مطابق راشد رؤف طیب رؤف کے والد ہیں جنہیں لندن میں سات جولائی کے ٹرین دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ڈان کا کہنا ہے کہ گرفتار کیئے جانے والے مشتبہ شخص کی گزشتہ چھ ماہ سے نگرانی کی جارہی تھی اور ان کی ٹیلی فون کالیں اور انٹرنیٹ پر پیغام رسانی پر نگاہ رکھی جارہی تھی۔
ڈان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے یہ معلومات لندن کے ہوم لینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کو فراہم کیں جس نے چھاپے مار کر لندن میں اکیس لوگوں کو گرفتار کیا۔
تعلق کی تصدیق نہیں ہو سکی |
ڈان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے اداروں نے ابھی تک پاکستان سے نو گرفتاریاں کی ہیں جن میں سے سات کو لندن سازش سے تعلق کے الزام میں جمعہ کو ملک کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے تین کو جمعہ کی صبح اسلام آباد ائر پورٹ سے اور چار کو جہلم کے پاس ایک گاؤں سے گرفتار کیا گیا۔
تاہم اخبار کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے نام اور تفصیلات ابھی تک ظاہر نہیں کی گئیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ نے کچھ افراد کی گرفتاری کی تصدیق تو کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس مرحلہ پر ان کے نام ظاہر کرنے سے تفتیش کو نقصان پہنچے گا۔