http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 11 August, 2006, 08:42 GMT 13:42 PST

’ناکام منصوبہ‘ اور برطانوی اخبارات

برطانیہ میں شائع ہونے والے تمام اخبارات میں جمعرات کو برطانیہ سے امریکہ جانے والے مسافر طیاروں کو تباہ کرنے کے مبینہ ناکام منصوبوں کی مختلف تفصیلات اور محرکات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اخبار ’دی سن‘ کے صفحہ اول کی شہ سرخی ہے ’بوٹل بمبرز‘۔ اخبار لکھتا ہے کہ خودکش حملہ آور مائع دھماکہ خیز مواد کے ذریعے چار ہزار مسافروں کی جان لینا چاہتے تھے۔

اخبار’ ڈیلی میل‘ کی شہ سرخی میں کچھ یوں سوال ہے کہ’ کیا انہوں نے11/9 کا ایک نیا حملہ ناکام بنایا؟۔ اس کے ساتھ ہی اخبارات میں امریکہ سے ان
مشتبہ منصوبوں کے تعلق کے بارے میں بھی بحث کی گئی ہے۔

’گارڈین‘ لکھتا ہے کہ امریکہ میں حکام کو یقین ہے کہ امریکی شہروں نیویارک، واشنگٹن اور سان فرانسسکو کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

’دی میل‘ کی خبروں کے مطابق ان منصوبوں میں تین جہازوں کے ذریعے تین مختلف حملوں میں امریکہ کے آٹھ اہم شہروں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔

’ڈیلی ٹیلی گراف‘ لکھتا ہے کہ ان حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ انسانی
ہلاکتیں تھا۔ بعض اخبارات میں لیکوڈ یا مائع دھماکہ خیز مواد کے ذریعے مبینہ منصوبے کے خوفناک نتائج کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔

’فنانشل ٹائمز‘ میں سلامتی کے امور کے مشیران کہتے ہیں کہ دہشت گردوں نے ایسے دھماکہ خیز مواد کو منتخب کیا جن کے بارے میں عام طور پر غور نہیں کیاجاتا یا جن پر دوران جانچ شبہہ نہیں کیا جاتا۔

’دی مرر‘ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بظاہر بے ضرر پلاسٹک کی بوتلوں میں موجود مائع ہائیڈرو کاربن فیول کو منرل واٹر سمجھتے ہوئے باآسانی لے جانے کی اجازت مل سکتی تھی۔ اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ لکھتا ہے کہ ایکس رے مشینیں اس قسم کے آلات کی نشاندہی سے قاصر ہیں۔

اخبارات میں اس منصوبے میں ملوث مشتبہ افراد کے بارے میں بھی کافی کچھ
بتایا گیا ہے۔ خاص طور پر ایک نوجوان شخص کے بارے میں ’دی مرر‘ دعویٰ کرتا ہے کہ اس شخص نے منشیات اور شراب نوشی سے بھرپور زندگی کو ترک کرکے چھ ماہ قبل ہی اسلام قبول کیا تھا۔اخبار لکھتا ہے کہ یونیوسٹی کا ایک طالب علم، ایک مزدور، پزا کی دکان میں کام کرنے والا، ایک تاجر اور عنقریب باپ بننے والا ایک شخص گرفتار کیےجانے والے دوسرے افراد میں شامل ہیں۔

’ٹیلی گراف‘ لکھتا ہے کہ یہ درمیانے طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔