Friday, 11 August, 2006, 05:05 GMT 10:05 PST
اسرائیل کے طیاروں نے لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا اور جمعہ کے روز کیے جانے والے حملوں کم از کم گیارہ عام شہری ہلا ک ہو گئے ہیں۔
جمعہ کی صبح کو اسرائیل کے طیاروں نے جنوبی بیروت کے علاقے داھیا پر بمباری کی۔ حملہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
حزب اللہ اور اسرائیلی فوجیوں میں جنگ جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس سے پہلے جمعرات کے روز اسرائیلی میزائلوں نے مغربی بیروت میں اس تاریخی لائٹ ہاوس کو جزوی طور پر تباہ کر دیا تھا جو فرانسیسی نوآبادیاتی دور کی یادگار تھا۔
اس لائٹ ہاوس کو ان دنوں موبائل کمونیکیشن ٹاور کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اسرائیل نے بیروت کے مغربی علاقے کو نشانہ بنایا ہے جو نسبتاً خوشحال سمجھا جاتا ہے اور جہاں سابق مقتول وزیر اعظم رفیق حریری کا گھر اور سعودی سفارت خانہ بھی ہے۔
اس کے علاوہ شمالی بیروت میں بھی سمندر سے داغے جانے والے ایک میزائل سے ایک ریڈیو کمونیکیشن ٹاور تباہ کر دیا گیا۔
اسرائیلی طیاروں نے جنوبی بیروت کے تین علاقوں برج البراجنا، السلوم اور شیہا کے علاقوں پر پمفلٹ گرائے ہیں جن میں علاقے کے لوگوں کو فورا نکل جانے کا کہا گیا ہے۔ شیہا وہ علاقہ ہے جہاں پیر کو ایک اسرائیلی میزائل لگنے سے ایک رہائشی عمارت تباہ ہوگئی تھی اور اکتالیس افراد مارے گئے تھے۔
آج پہلی مرتبہ شمالی لبنان میں تریپولی کے آس پاس بھی پرچیاں گرائیں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے کے بعد اگر کوئی گاڑی سڑک پر نظر آئی تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تریپولی سے ایک ساحلی سڑک شام تک جاتی ہے اور اسرائیل کا خیال ہے کہ اس راستے سے حزب اللہ کے لیئے اسلحہ آ رہا ہے۔
بیکا وادی میں زاہلے کے علاقے میں ایک مسافر گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک شخص کی ہلاکت جبکہ بارہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ طائر کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار کو اسرائیلی ڈرون کے میزائل نے ہلاک کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق آج سہہ پہر تک حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر ستر کے لگ بھگ راکٹ داغے۔ گلیلی کے علاقے میں ایک عرب اسرائیلی عورت اور اس کا بچہ ہلاک ہوا ہے۔
![]() | |
| امدادی تنظیمیں جنوبی لبنان میں امداد پہنچانا چاہ رہی ہیں۔ |
لبنان میں انسانی امداد سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ ژین ایگلینڈ نے جنوبی لبنان میں امدادی کارروائیوں میں حزب اللہ اور اسرائیل کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کے عمل کو شرمناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قریقین اگر چاہیں تو امدادی ایجنسیوں کو چٹکی بجاتے ہوئے جنوبی لبنان میں پھنسے ہوئے ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں کی مدد کی اجازت دے سکتے ہیں۔