Thursday, 10 August, 2006, 07:52 GMT 12:52 PST
جون لین
بی بی سی نیوز، دمشق
لبنان کا ایک خاندان دمشق کے ایک غریب علاقے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش پذیر ہے۔ ان میں سے ایک کو کیسنر ہے۔ باقی افراد ذہنی پریشانی، صدمے اور غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔
شامی لبنان سے آنے والے افراد کو مہمان کہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن انہیں کسی بھی نام سے پکارا جائے، ہیں تو یہ مہاجر۔
دو کمروں کے اس چھوٹے سے فلیٹ میں آٹھ افراد ٹھسے ہوئے ہیں جس میں منصور مولا کے خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔
منصور کا کہنا تھا کہ’یہ ایک بحران ہے۔ ہم نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہ ہمارے خاندان کے افراد جیسے ہیں۔ ہمارے بھائی ہیں۔ ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے لیے ہم سے جو کچھ بن پڑا ہم کریں گے‘ ۔
اس سے ملتی جلتی کہانیاں شام میں بکھری پڑی ہیں۔
کوئی نہیں جانتا کہ کتنے لبنانی شہری اپنے ملک کو چھوڑ کر شام آئے ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے تین لاکھ کے قریب ہے لیکن یہ ہر جگہ ہی دکھائی دیتے ہیں۔ لبنانی شہریوں کی شام آمد کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
میں ایک ایسے ہی گروہ سے ملا۔ یہ تمام شیعہ مسلمان ہیں جو اس وقت پہاڑوں پر واقع ایک زیر تعمیر عیسائی خانقاہ میں رہ رہے ہیں۔ دمشق سے باہر کچھ خوش قسمت ایسے بھی ہیں جو ناروے کے سفارت کار کی رہائش گاہ میں میسر سہولیات سے فیضیاب ہو رہے ہیں جس میں ایک سوئمنگ پول بھی واقع ہے۔
ایک ہی خاندان کے چھ سے زائد افراد پر مشتمل ایک اور لبنانی گروہ جو گرمیوں کے لیے مخصوص بچوں کے ایک چھوٹے سے خیمے میں رہ رہا ہے۔ یہ خیمہ دو یا تین بچوں کے ایک ساتھ رہنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کچھ امیر لبنانی مہاجر ایسے بھی ہیں جو اپنی بڑی بڑی گاڑیوں جیسے لیموزینز میں فرار ہو کر آئے ہیں اور انہیں شاندار ہوٹلوں میں رہنے کو جگہ بھی مل گئی ہے۔ بہت سے افراد شام کے سرکاری سکولوں، یونیورسٹیوں، مساجد اور اس جیسی عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔لبنانی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد شامی خاندانوں کے ساتھ رہ رہی ہے۔
![]() | |
| اسرائیلی حملوں کے بعد لبنانی بڑی تعداد میں شام ہجرت کر رہے ہیں |
لبنان اور شام کے درمیان ہنگامہ خیز ماضی کے باوجود شامیوں کے دلوں میں لبنانیوں کی مدد کے جذبات موجود ہیں۔ گزشتہ سال ہی شام پر لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کا الزام تھا۔ شامی فوجی دستوں نے اقوام متحدہ کے دباؤ کے بعد لبنان سے انخلاء کیا۔ شام نےلبنان کے بازنطینی مذہبی اور سیاسی تشخص میں ایک خاموش کردار ادا کیا ہے لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شامی بغیر کسی مذہبی تفریق کے لبنانی شہریوں کی مدد کر رہے ہیں چاہے وہ عیسائی لبنانی ہو، شیعہ یا سنی مسلمان۔
ریم جمعہ کا کہنا تھا کہ سرحد پار سے آنے والے مہاجرین کو علم نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ انہیں اس سلسلے میں جو پہلی مدد فراہم کی جاتی ہے وہ موبائل فون کی ہے تاکہ وہ پیچھے رہ جانےوالے اپنے خاندان کے باقی افراد کو بتا سکیں کہ وہ باحفاظت شام پہنچ گئے ہیں اور محفوظ ہیں لہذا وہ بھی یہاں پہنچ جائیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے انیتی ہرل کا کہنا تھا کہ شامی بہت کشادہ دل لوگ ہیں۔ وہ لبنانی شہریوں کو اپنے گھر لے جاتے ہیں اور انہیں ضرورت کی تمام اشیاء بھی فراہم کرتے ہیں۔
![]() | |
| لبنان سے شام ہجرت کرنے والا ایک خاندان |
اسرائیلی حملوں کو کئی ہفتے ہو چکے ہیں تاہم بہت سے خاندان ذہنی طور پر پریشان ہیں۔ شامی خاندان لبنانی مہاجرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو ایسا نہیں کر سکتے۔ کچھ عرصے بعد شامیوں کو اپنی سرکاری عمارتوں، یونیوسٹیوں اور سکولوں کی ضرورت پڑے گی۔
لبنان سے آنے والے افراد مہاجرین کی اس تعداد میں یقینًا ایک اضافہ ہیں جو عراق سے یہاں آئے ہیں۔ ان میں فلسطین سے آنے والے مہاجرین شامل نہیں ہیں جو کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ جب تک مشرق وسطیٰ میں مکمل طور پر امن بحال نہیں ہوجاتا مہاجرین کی پریشانیوں میں یونہی اضافہ ہوتا رہے گا۔