Thursday, 10 August, 2006, 20:18 GMT 01:18 PST
برطانیہ سے امریکہ جانے والے طیاروں کو تباہ کرنے کے مبینہ منصوبے کو ناکام کے بعد برطانیہ کے سکیورٹی اداروں نے ایک بڑے آپریشن کے بعد چوبیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ادھر پاکستان میں حکام نے بتایا ہے کہ طیاروں کو تباہ کرنے کے منصوبے کے بارے میں معلومات پاکستان میں گزشتہ ہفتے گرفتار کیئے جانے والے دو پاکستانی نژاد برطانوی باشندوں سے حاصل ہوئیں تھیں۔ حکام کے مطابق کل سات افراد کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ گرفتار شدہ افراد کا تعلق کسی عسکریت پسند گروپ سے ہے یا نہیں۔
دریں اثناء برطانوی وزیر داخلہ جون ریڈ نے کہا کہ اگرچہ مشتبہ مرکزی کردار گرفتار کر لیئے گئے ہیں لیکن ہمیں پھر بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ’ہم سب کو ایک مشترکہ خطرے کا سامنا ہے اور ہمارا رد عمل بھی ایک سا ہونا چاہیے۔‘
بینک آف انگلینڈ نےگرفتار کیئے جانے والے چوبیس میں سے انیس افراد کے نام جاری کر دیئے ہیں جن کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے ہیں۔
گرفتار کیے جانےوالوں کی عمریں اٹھارہ سے چھتیس سال کے درمیان ہیں۔ بینک آف انگلینڈ نے جن افراد کے اکاونٹ منجمد کیے ہیں ان میں عبد احمد علی، والتھم سٹوو لندن ، شہزاد خرم علی، ہائی وکہم ، نبیل حسین، لندن، تنویر حسین، لیٹن لندن، عمیر اسلام، والتھم سٹوو لندن، وسیم کیانی، ہائی ویکم، وحید عرفات خان، لندن، عثمان آدم خطیب، لندن ، عبد المنیم پاٹیل، برمنگھم، محمد عثمان صدیقی، والتھم سٹو لندن، اسد سرور، ہائی ویکم ، ابراہیم سونت، لندن، آمین آسمن طارق، والتھم سٹو لندن، شامن محمد دین ، سٹاک نیوٹن لندن، اور وحید زمان لندن شامل ہیں۔
گرفتار کیے جانے والے کون؟ |
برطانوی پولیس نے تصدیق کی کہ گرفتاریاں مشرقی لندن، ہائی وکہم اور برمنگھم میں مختلف گھروں اور تجارتی عمارتوں پر چھاپوں کے دوران عمل میں آئی ہیں۔ان علاقوں میں ایشیائی باشندوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔مزید گرفتاریوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت برطانیہ سے امریکہ جانے والےدس طیاروں کو دوران پرواز دھماکے سے اڑانا تھا اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو اس سے اتنا جانی نقصان ہوتا جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔
اس مبینہ منصوبے کے تحت دھماکہ خیز مواد کو مشروبات کی بوتلوں میں ڈال کر طیارے کے اندر لے جانا تھا جہاں طیارے کے اندر ان کو الیکٹریکل آلات کی مدد سے دھماکہ کرنا تھا۔
اس واقعے کے بعد مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے اور مسافروں کو ہاتھ کو کوئی چیز لے کر جانی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔مسافروں کو پاسپورٹ اور دوسرے ضروری اشیا کو ایسے پلاسٹک بیگ میں رکھنا ہو گا جس سے باآسانی نظر آ سکے۔
برطانیہ اور امریکہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر مبینہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو اس میں گیارہ ستمبر کے واقعے سے زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
برمنگھم میں بھی، جہاں ایشیائی لوگوں کی بڑی تعداد آباد ہے، پولیس نے گرفتاریاں کی ہیں۔ برمنگھم جامع مسجد کے امام ڈاکٹر نسیم نےبی بی سی کو بتایا ہے کہ گرفتار کیئے جانے نوجوانوں کو پولیس دو دفعہ پہلے بھی گرفتار کر چکی ہے اور اب تیسری مرتبہ پھر ان کو گرفتار کیاگیا ہے۔
ادھر پاکستان کے حکام نے کہا کہ دہشت گردی کے اس مبینہ منصوبے کو ناکام بنانےمیں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
حکام کے مطابق ایک سال پر محیط تحقیات کے بعد دہشت گردی کے اس منصوبے سے پردہ اٹھانےمیں کامیابی ملی ہے۔ برطانیہ میں گرفتاریاں پاکستان میں ہونے والی گرفتاریوں کے بعد عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نےملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسلام آباد سے بی بی سی کے نمائندے ظفر عباس کے مطابق وسطیٰ ایشیا کے ایک باشندے کی پاک افغان سرحد سے گرفتاری سے شاید سکیورٹی اہلکاروں کو بہت اہم معلومات ملی تھیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی حکام کو اسی شخص سے اطلاع ملی تھی کہ برطانیہ میں ان کے کچھ لوگ ہیں جن کو گرفتار کیا گیا ہے۔