Thursday, 10 August, 2006, 09:13 GMT 14:13 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو، بیروت
اسرائیلی فوج کا وہ بڑا آپریشن گزشتہ نصف شب کو روک دیا گیا جس کا مقصد جنوبی لبنان میں تیس کلو میٹر اندر دریائے لیطانی تک پیش قدمی کرنا
ہے تاہم چند گھنٹے کی پیش قدمی کے دوران اسرائیلی دستوں نے سرحد سے نو کلو میٹر کے فاصلے پر مرجعيون کے قصبے پر قبضہ کر لیا جبکہ خیام کے قصبے کے اردگرد شدید جھڑپوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
گزشتہ روز کی لڑائی میں دیبل اور آیت الشعاب کے ارد گرد لڑائی میں اسرائیل کے پندرہ فوجی ہلاک ہوئے۔ گزشتہ ایک ماہ کی لڑائی میں کسی ایک دن میں اسرائیل کا یہ سب سے زیادہ فوجی جانی نقصان بتایا جا رہا ہے جبکہ اسرائیل نے حزب اللہ کے چالیس کے لگ بھگ چھاپہ مار ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
رات گئے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر 160 کے قریب راکٹ فائر کیے جن میں سے 22 راکٹ آبادیوں پر گرے جن سے چار اسرائیلی شہری زخمی بتائے جاتے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے حزب اللہ کی راکٹ باری سے جانی نقصان کو روکنے کے لیے ایک یہودی بستی کریات شمعونہ کی آبادی کو پہلے ہی منتقل کردیا ہے جبکہ حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصر اللہ نےگزشتہ رات المنار چینل پر خطاب کے دوران کہا کہ اسرائیلی شہر حیفہ میں رہنے والی عرب آبادی وہاں سے عارضی طور پر چلی جائے کیونکہ حزب اللہ کو اُن کے ہوتے ہوئے حیفہ میں آباد یہودیوں کے خلاف کارروائی میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
حسن نصر اللہ نے کہا کہ وہ اسرائیل کی جنوبی لبنان میں نئی پیش قدمی کو خوش آمدید کہیں گے کیونکہ بقول ُان کے جتنے بڑے علاقے میں پیش قدمی ہو گی اتنے ہی بڑے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں کا قبرستان بھی بنے گا۔
شیخ حسن نصر اللہ نے جنگ بندی کی صورت میں لبنانی فوج کے پندرہ ہزار سپاہیوں کی لبنان اسرائیل سرحد پر تعیناتی کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔