Thursday, 10 August, 2006, 11:33 GMT 16:33 PST
راجر ہارڈی
بی بی سی نیوز
عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کا بازارگرم ہے تاہم ایسے میں بعض شیعہ سیاستدان جن میں وزراء بھی شامل ہیں ملک کی تقسیم کے مطالبے پر دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ واشنگٹن میں بھی چند معروف شخصیات یہی بات کر رہی ہیں۔ تو کیا عراق کا ایک متحد ریاست کے طور پر کوئی مستقبل ہے؟
’ایک عراق سے تین بہتر‘ کا خیال کافی عرصے سے گردش میں ہے۔ البتہ اب یہ بات عراق اور واشنگٹن میں ایک نئے ولولے سے کہی جا رہی ہے۔ شیعہ سنی ہلاکتیں اس خیال کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔
ایک معروف شیعہ رہنما عبدالعزیز حکیم بڑی شدت سے ایک شیعہ خطے کے لیئے کام کر رہے ہیں۔ اس سے ان کی مراد آدھے عراقی صوبے اور آدھے سے زیادہ تیل کے وسائل ہیں۔
ایک سینر عراقی اہلکار نے ایک خبر رساں ادارے کو نام نہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’عراق کو بطور ایک سیاسی منصوبے کے ترک کر دیا گیا ہے۔‘
![]() | |
| سینٹر بیڈن بھی تقسیم کے حامی ہیں۔ |
کٹ جانے والے علاقوں سے واضع مراد بغداد کے شمال اور مغرب میں سنی اکثریتی آبادی والے خطے ہیں جبکہ جو علاقے ترقی پذیر ہیں وہ کردوں کا شمالی اور شیعوں کا جنوبی علاقہ ہے۔
امریکہ میں ایک سابق سفیر پیٹر گالبریتھ نے ’عراق کا خاتمہ‘ نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور امریکی سپر طاقت بھی اسے اب دوبارہ نہیں جوڑ سکتا۔
متحد عراق؟ |
دوسری جانب اس خیال کے مخالفین بھی کافی تیز ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ عراق کی تقسیم تشدد سے لبریز ہوگی اور ضروری نہیں کہ اس سے استحکام پیدا ہو۔ ان کے خیال میں کُرد شمال اور شیعہ جنوب تیل کے وسائل پر قابض ہوجائیں گے جس سے سنی غربت کا شکار ہوجائیں گے۔
متحدہ عراق کے لیئے ایک خطرہ ایران، شام، سعودی عرب اور ترکی کا مداخلت کی جانب مائل ہونا ہے۔ جو بات کردوں کے لیئے اچھی ہو ضروری نہیں عراق کے لیئے بھی ویسی ہی ہو۔
عراق کا مستقبل زمینی حقائق اور واقعات پر منحصر ہے ناکہ سیاستدانوں کی تقاریر پر۔ ایک شخص جو متحد عراق کا بدستور حامی دکھائی دیتا ہے وہ ہیں امریکی صدر جارج بش۔ ان کی خواہش ہے کہ انہیں عراق کو آزاد کرانے والے کے طور پر یاد کیا جائے اور اسے تقسیم کرنے والے کے طور پر نہیں۔